دیباچہ تفسیر القرآن — Page 88
کیا واہمہ پر رکھی ہوئی بنیاد روحانیت کو کچھ فائدہ پہنچا سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیشہ سے اتھرووید کی اصلیت کے متعلق شبہ پیدا ہوتا چلا آیا ہے اور یجروید اور رگ وید بھی اِسی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ اِدھر کے منتر اُڑا کر کسی نے اُدھر رکھ دئیے ہیں جہاں اِس قدر گڑ بڑ ہو وہاں کوئی شخص قطعی طور پر یہ فیصلہ کس طرحکر سکتا ہے کہ فلاں منتر خد اکی طرف سے ہے اور فلاں منتر لوگوں کا داخل کردہ ہے۔اور جس کتاب کے متعلق ایسے شک و شبہات پیدا ہو چکے ہوں اُس پر دنیا کی ہدایت اور رہنمائی کی بنیاد رکھی ہی کب جا سکتی ہے۔یقینا جب کسی کتاب کی یہ حالت ہو جائے تو اس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت ہوگی جو انسانی دست بُرد سے پاک اور محفوظ ہو اور جس پر انسان یقین اور قطعیت کے ساتھ اپنے عقیدوں کی بنیاد رکھ سکے اور جس کے متعلق وہ ویسا ہی یقین رکھے جیسے اُسے سورج اور چاند بلکہ اپنے نفس کے وجود پر یقین ہے اور وہ کہہ سکے کہ اس کا لفظ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں اُس کی رہنمائی میں یقینا خدا تعالیٰ کو پا سکتا ہوں اور ا س ضرورت کو پورا کرنے والی کتاب قرآن کریم ہے۔ویدوں میں ظالمانہ احکام ۱۔اتھرووید کانڈ نمبر ۴ سُوکت ۲۲ منتر میں لکھا ہے:۔’’اے ویدک دھرمی راجائو اور دوسرے ویدک دھرمیو! تم شیرجیسے بن کر رعیتوں کو کھا جائو اور چیتے جیسے بن کر اپنے دشمنوں کو با ندھ کر جکڑ لو۔اس کے بعد اپنی مخالفت کرنے والوں کے کھانے تک اُٹھا لو۔‘‘ ۲۔سام وید اُتر آرچک پرپھاٹک گیارہ منتر میں لکھا ہے:۔’’اے مخالف تم سرکٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہوجائو۔اس کے بعد پھر جو تم میں چیدہ چیدہ ہوں اُن کو اِندر اور آگ دیوتا تباہ کریں‘‘۔۳۔سام وید اُتر آرچک ادھیائے اا منتر ۱میں لکھا ہے:۔’’ اے اِندر دیوتا! ہمارا دیا ہوا سوم رس تجھے خوش اورمتوالا کرے تُو ہمیں