دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 75

پر پیدا نہیں ہوگئی تھی بلکہ ایک بڑا جتھا روحوں کا اُس وقت پایا جاتا تھا۔پھر یہ کہا گیا ہے کہ روح نے مسیح کی منتیں کیں کہ اِس سرزمین سے اُس کو نہ نکالیں لیکن جب مسیح نے نہ مانا تو سب دیووں نے اُس کی منت کر کے کہا کہ ہم کو اِن سؤروں کے درمیان بھیج تاکہ ہم اُن پر بیٹھیں۔اِس پر یسوع نے فی الفور انہیں اجازت دی اور وے ناپاک روحیں نکل کے سؤروں میں بیٹھ گئیں اور وہ غول (یعنی سؤروں کا غول ) کڑاڑے پر سے دریا میں کودا اور وے قریب دو ہزار کے تھے جود ریا میں ڈوب کر مر گئے۔اِن چند فقروں میں کتنا بڑا وہم اور کتنا ظلم موجود ہے۔وہم تو یہ ہے کہ بدروحوں نے انسان میںسے نکل کر سؤروں میں جانے کی اجازت مانگی۔اور ظلم یہ کہ مسیح نے دوسرے لوگوں کے سؤروں پر بد روحوں کو مسلط ہونے کی اجازت دی اور اس طرح ہزاروں روپیہ کا مال لوگوں کا ضائع کر دیا۔سوال یہ ہے کہ جب وہ روحیں مسیح سے پوچھے بغیر آدمی کے جسم میں داخل ہو گئی تھیں تو سؤروں میںد اخل ہونے کے لئے انہیں کسی اجازت کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرے یہ کہ سؤروں کا گلہ کسی کی ملکیت تھا۔جنگلی سؤر تو اِس طرح دوہزار کے گلے کی صورت میں شہر کے پاس آکر نہیں پھرا کرتے۔اتنی تعداد میں شہر کے قریب پھرنے والے سؤر تو کسی کی ملکیت ہوا کرتے ہیں۔اِس پر سوال ہوتا ہے کہ کسی کی ملکیت کو تباہ کرنے کا مسیح کو کیا حق پہنچتا تھا؟ اگر کوئی کہے کہ خد اکے بیٹے کو سب چیزوں پر ملکیت کا حق حاصل ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خد ا تعالیٰ کو محبت کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ا گر خد امحض اپنی ملکیت اعلیٰ سے حق کے طور پر انسان کی ملکیت کو تباہ اور بربادکر سکتا ہے تو پھر کونسا روحانی نظام دنیا میں کام کر رہا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمانیت کا ثبوت کیا ہے؟ علاوہ ازیں اِس میں ایک اور عظیم الشان وہم کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ سؤروں میں جب یہ روحیں چلی گئیں تو وہ دریا میں کود کر مر گئے یہ عجیب بات ہے کہ وہ بد روحیں ایک انسان میں گئیں تو وہ دریا میں نہ کودا لیکن دو ہزار سؤروں میں گئیں تو وہ دریا میں کود کر مرگئے۔پس یہ آیات وہم پر دلالت کرتی ہیں اور ظالمانہ مضامین ان کے اندر پائے جاتے ہیں اور کوئی عقلمند انسان جو مسیح کی عظمت کا قائل ہو وہ اِن آیات کو مسیح یا اُن کے حواریوں کی طرف منسوب