دیباچہ تفسیر القرآن — Page 76
نہیں کر سکتا۔لازماً ماننا پڑتا ہے کہ یہ آیات بعد میں بنا کر انجیل میں داخل کی گئی ہیں۔ج۔انجیل میں لکھا ہے مسیح مردے زندہ کیا کرتے تھے اورمردے واپس شہر میں آکر داخل ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ یوحنا باب ۱۱ آیت ۴۳۔۴۴ میں لکھا ہے اور وہ یہ کہہ کر بلند آواز سے چلایا کہ اے لعزر باہر نکل! تب وہ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے نکل آیا اور اُس کا چہرہ گردا گرد رومال سے لپٹا ہوا تھا۔اسی طرح لکھا ہے۔’’ دیکھو ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک پھٹ گیا اور زمین کانپی اور پتھر تڑک گئے اور قبریں کھل گئیں اور بہت لاشیں پاک لوگوں کی جو آرام میں تھے اُٹھیں اور اُٹھنے کے بعد قبروں سے نکل کر اور مقدس شہر میں جا کر بہتوں کو نظر آئیں‘‘۔۸۶؎ کیا کوئی عقلمند اِن باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ اگر مردے پہلے زندہ ہوتے تھے تو اب کیوں نہیں ہوتے؟ اگر کہو کہ یہ مسیح کی علامت تھی تو یہ غلط ہے۔مسیح کہتے ہیں اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو تو جو نشانات میں نے دکھائے ہیں اُن سے بہتر نشانات تم دکھا سکتے ہو۔چنانچہ یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۲۔۱۳ میں لکھاہے:۔’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا اور اُن سے بھی بڑے کام کرے گا۔کیونکہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور جو کچھ تم میرے نام سے مانگو گے وہی کر وںگا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پاوے۔اگر تم میرے نام سے کچھ مانگو گے تو میں وہی کروں گا‘‘۔مگر کیا اِس پیشگوئی کے مطابق اب بھی عیسائی مردوں کو زندہ کرتے ہیں؟ د۔متی باب ۱۴ آیت ۲۵ تا ۲۷ میں لکھا:۔’’ اور رات کے پچھلے پہر یسوع دریا پر چلتاہوا اُن کے پاس آیا۔جب شاگردوں نے اسے دریا پر چلتے دیکھا وے گھبرا کے کہنے لگے یہ بھوت ہے اور ڈر سے چلائے۔وہیں یسوع نے انہیں کہا کہ خاطر جمع رکھو میں ہوں۔مت ڈرو‘‘۔یہ بھی ایک وہم ہے جس کا انجیل میں ذکر کیا گیا، ورنہ پانی پر کون چل سکتا ہے۔