دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 71

ہے کہ مسیح تو دوبارہ زندہ ہو کر آئے گا لیکن فارقلیط کے دوبارہ آنے کا کوئی ذکر نہیں۔۹۔یوحنا کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے حواریوں میںسے یوحنا اُس کاسب سے بڑا اور پیارا حواری تھا اِس لئے اُس کا نام مسیح کاپیارا ہو گیا تھا۔دیکھو یوحنا باب ۱۳ آیت ۲۳۔اور باب ۱۸ آیت ۱۵۔اور باب ۱۹ آیت ۲۶،۲۷۔لیکن دوسری انجیلوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح کاسب سے پیارا حواری پطرس تھا اور تین شاگرد خاص تھے۔پطرس۔یوحنا۔یعقوب۔تعجب ہے کہ یوحنا کی انجیل میں یعقوب کا توذکر ہی نہیں کیا گیا اور پطرس اور یوحنا میں سے یوحنا کو زیادہ مقرب قرار دیا گیا ہے حالانکہ دوسری اناجیل پطرس کو زیادہ مقرب قرار دیتی ہیں۔دیکھو متی باب ۱۷ آیت ۱۔باب ۲۶ آیت ۳۷۔مرقس باب ۵ آیت ۳۷۔باب ۹ آیت ۲۔باب ۱۳آیت ۳۔باب ۱۴ آیت ۳۳۔لوقا باب ۹ آیت ۲۸۔باب ۲۲ آیت ۳۲۔۱۰۔لوقا (باب ۳ آیت۳۳)نے یوسف کو ہیلی کا بیٹا بتایاہے اور متی (باب ۱ آیت ۱۶)نے یوسف کو یعقوب کا بیٹا بتا یا ہے۔۱۱۔لوقا (باب ۲ آیت۴)نے مسیح کو دائود کی اولاد ناتھن سے لکھا ہے اور متی نے ناتھن کے بھائی سلیمان بادشاہ کی نسل سے اُسے قراردیا ہے۔۸۵؎ ۱۲۔متی کے نسب نامہ میں یوسف سے ابراہیم تک ۴۱ اشخاص کے نام ہیں اور لوقا کے نسب نامہ میں ۵۶۔اور پھر ہر دو شجرہ نسب کے ناموں میں کئی جگہ اختلاف پایا جاتا ہے۔۱۳۔لوقا کا خود اپنا کلام بھی مختلف معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ وہ اپنی انجیل کے باب ۲۴ آیت ۵۰۔۵۱ میں لکھتے ہیں کہ:۔’’ مسیح اپنے شاگردوں کے سامنے بیت عنیا میں آسمان پر چلے گئے‘‘۔