دیباچہ تفسیر القرآن — Page 67
عیسائیوں پر اعتراض کیا کہ تمہارا محض اِسی بات پر انحصار رکھنا کہ تم حضر ت مسیحؑ پر ایمان لے آئے ہو اور ہر قسم کے عمل صالح کو باطل قرار دینا درست نہیں۔حضر ت مسیح تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ دعا اور روزہ بھی ضروری چیزیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ دعا اور روزہ سے کام لیتے تھے۔تو جب دعا اور روزہ کی ضرورت ہے تو معلوم ہو اکہ محض حضر ت مسیحؑ پر ایمان انسان کو ہر قسم کی نیکی سے مستفیض اور نجات کا مستحق نہیں بنا سکتا۔یہ اعتراض ایسا زبردست تھا کہ عیسائی اِس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور انہوں نے اپنی خیر اِسی میں سمجھی کہ اِس آیت کو اناجیل میں سے نکال دیں۔چنانچہ موجودہ اناجیل میں ہمیں یہ آیت کہیں نظر نہیں آتی۔گویا ایک آیت کو کتاب میںسے خارج کر دیا گیا اور اس طرح ثابت کر دیا گیا کہ انجیل اب تک انسانی دست بُرد کا شکار ہور ہی ہے۔۵۔متی باب ۱۲ آیت ۳۹،۴۰ میں لکھا تھا کہ ایک موقع پر جب بعض فقیہوں اور فریسوں نے حضرت مسیح سے کہا کہ:۔’’ اے استاد! ہم تجھ سے ایک نشان چاہتے ہیں‘‘۔تو حضر ت مسیح نے ان کو جواب دیا کہ :۔’’ اِس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھوندتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان انہیں دکھایا نہ جائے گا کیونکہ جیسا کہ یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ویسا ہی انسان کا بیٹا تین دن اور تین رات زمین کے دل میں ہوگا‘‘۔مذکورہ بالا آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت مسیح کی اصل پیشگوئی یہ تھی کہ جس طرح یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہے، اسی طرح میں بھی تین دن اور تین رات قبر کے اندر رہوں گا اور یونس نبی سے میری مماثلت ثابت ہو جائے گی۔مگر اناجیل بتا تی ہیں کہ حضرت مسیح جمعہ کی شام کو قبر میں رکھے گئے۸۰؎ اور جب اتوار کی صبح کو انہیں قبر میں دیکھا گیا تو وہ اس جگہ سے غائب تھے۔۸۱؎ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ صرف ایک دن اور دو رات قبر میں رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ نے عیسائی دنیا سے مطالبہ کیا کہ جب حضرت مسیح کی پیشگوئی یہ تھی کہ لوگوںکو ویساہی نشان دکھایا جائے گا جیسے یونس نبی کے ذریعہ