دیباچہ تفسیر القرآن — Page 44
بائبل کے ظالمانہ احکام پھر صرف متضاد باتیں ہی نہیں ہمیں بائبل میں ظالمانہ احکام بھی نظر آتے ہیںجو ہر گز خدائے رحیم و کریم کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے۔مثلاً: ۱۔خروج باب۲۱آیت ۲۰،۲۱ میں لکھا ہے:۔’’اگر کوئی اپنے غلام یا لونڈی کو لاٹھیاں مارے اوروہ مارکھاتی ہوئی مرجائے تو اسے سزا دی جائے۔لیکن اگر وہ ایک دن یادودن جئے تو اسے سزا نہ دی جائے اس لئے کہ وہ اس کا مال ہے۔‘‘ اس تعلیم میں غلاموں کے لئے کتنی سختی ہے۔ایک ظالم اپنے غلام اور اپنی لونڈی کو لاٹھیوں سے مارتا ہے اور اتنا مارتا ہے کہ وہ غلام یا لونڈی ایک دو دن کے بعد مرجائے لیکن بائبل کہتی ہے اب وہ سزا کا مستحق نہیں کیونکہ غلام اور لونڈی اس کا مال ہیں۔کیا یہ تعلیم اس قابل تھی کہ ہمیشہ کے لئے اسے قائم رکھا جاتا؟ کیا یہ تعلیم ایسی نہ تھی کہ اس کی جگہ پر وہ تعلیم لائی جاتی جو غلام اور لونڈیوں کے دستور مٹانے والی اور مالک کے ہاتھوں کو روکنے والی ہوتی۔یہ تعلیم اسلام ہی کے ذریعہ دنیا کو حاصل ہوئی چنانچہ اسلام نے جہاں غلامی کو مٹانے کے لئے قانون پاس کئے وہاں یہ اصول بھی مقرر کردیا کہ جو غلام یا لونڈی لوگوں کے ہاتھ میں کسی وجہ سے باقی رہ گئے ہوں ان کو ہرگز مارا پیٹا نہ جائے۔احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ ابو مسعود انصاریؓ اپنے غلام کو ماررہے تھے کہ اُنہیں پیچھے سے آواز آئی۔اے مسعود! جس قدر تجھ کو غلام پر مقدرت حاصل ہے اس کے کہیں زیادہ خدا کو تجھ پر مقدرت حاصل ہے۔وہ کہتے ہیں میں نے مڑکر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے تھے اس پر ڈر کے مارے میرے ہاتھ سے کوڑا گر پڑا اور میں نے کہا یَارَسُوْلَ اللّٰہ! یہ غلام خدا کے لئے آزاد ہے۔آپ نے فرمایا اگر تُو اسے آزاد نہ کرتا تو آگ تیرا منہ جھلستی۔۵۷؎ اسی طرح ایک اور صحابی فرماتے ہیں ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس ایک لونڈی تھی۔ہم میں سے چھوٹے بھائی نے اُس کے منہ پر تھپڑ مارا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس لونڈی کو فوراً آزاد کر دیا جائے کیونکہ جو شخص اپنے غلام یا لونڈی کو مارتا ہے وہ اس کو رکھنے