دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 447

ر کرنے میں ضرور اس کا ہاتھ بھی تھا۔پس یہ بھی اس کے ظلم میں شریک ہے۔قرآن ہر حال میں اخلاقِ فاضلہ کے اظہار پر زور دیتا ہے قرآن سیاست میں اخلاقِ فاضلہ پر زور دیتا ہے وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اخلاقِ فاضلہ افراد کیلئے ہوتے ہیں حکومتوں کیلئے نہیں ہوتے بلکہ وہ اس بات پر زور دیتا کہ جس طرح افراد پر اخلاق فاضلہ کی ذمہ داریاںہیں اسی طرح حکومتوں پر بھی اخلاق فاضلہ کی ذمہ داریاں ہیں۔سچ صر ف ایک عام شہری ہی کے لئے قیمتی چیز نہیں بلکہ ایک سیاست دان کے لئے بھی ضروری ہے۔ظلم صرف ایک عام آدمی کے لئے ہی بُرا نہیں بلکہ ایک حکومت کے لئے بھی بُرا ہے۔حکومت کا یہی فرض نہیں کہ وہ اپنے افراد کے ساتھ انصاف کا سلوک کرے بلکہ حکومت کا یہ بھی فرض ہے کہ جس طرح ہمسایہ ہمسائے سے عمدہ سلوک کرتا ہے وہ بھی اپنی ہمسایہ حکومتوں سے عمدہ سلوک کرے۔اسلام مؤمن کو ہوشیار اور چوکس رہنے کا حکم دیتا ہے وہ جفاکشی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ بزدلی سے منع کرتا ہے مگر تہور اور جاہلانہ جوش سے روکتا ہے۔وہ عقل اور تدبیر سے کام لینے کا حکم دیتا ہے وہ خود کشی کو ناجائز قرار دیتا ہے اور ایسے تمام افعال جو خود کشی کے مترادف ہوں اُن سے منع کرتا ہے۔وہ مسلمان حکومتوں کو سرحدوں کی حفاظت ملحوظ رکھنے کاخاص طور پر حکم دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ جنگ میں کبھی ابتداء نہ کی جائے لیکن اگر دشمن جنگ شروع کردے تو پھر پیچھے کبھی نہ ہٹا جائے۔وہ شب خون مارنے سے منع کرتا ہے۔وہ معاہدے کی پابندی کا سختی سے حکم دیتا ہے اور صلح کے تمام مواقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی تاکید کرتا ہے۔قرآن کریم اپنے ملک کے یا غیر ملک کے افراد کو آزادی سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ صرف جنگی قیدیوں کے پکڑنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس کے لئے بھی وہ یہ شرط مقرر کرتا ہے کہ ہر قیدی اپنے حصے کا حرجانہ اداکرکے آزاد ہونے کا حق رکھتا ہے کسی شخص کو اجازت نہیں کہ وہ باوجود اس کے کہ کوئی قیدی اپنے حرجانہ کی رقم ادا کردے اُس کو قید رکھ سکے، لیکن اگر کوئی شخص جو ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہوجائے، اپنے حصہ کا حرجانہ ادا کرنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو تو پھر قرآن کریم اُس کے لئے یہ حکم دیتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اُس کو اجازت دی جائے کہ وہ کمائی کرکے اپنا حرجانہ ادا کردے۔اور جو ایسا کرنے کی