دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 446

ہیں اسی طرح عورتوں کے مردوں پر حقوق ہیں، وہ ماں باپ کے حقوق بھی بیان کرتاہے، وہ بھائی بہنوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیوی اور خاوند کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیٹوں اور بیٹیوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ ہمسائیوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ غربا ء کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ یتامیٰ کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ بیواؤں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے وہ دوستوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، وہ اجنبیوں کے حقوق بھی بیان کرتا ہے، اُس اجنبی کے حقوق بھی جو میرا ہم ملک اور میرا ہم وطن ہے اور اُس اجنبی کے حقوق بھی جو کسی غیر ملک سے میرے پاس پناہ لینے کے لیے آتا ہے یا میرے ملک کی سیر کرنے کے لئے آتا ہے۔قرآن دنیا سے ایک علیحدہ سیاست بھی پیش کرتا ہے۔قرآن ہی وہ کتا ب ہے جس نے سب سے پہلے اس بات کا حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو نسلی طور پر بادشاہت کرنے کا حق نہیں بلکہ حکومت ملک کی امانت ہے جو ملک کے تجویز کردہ حکام کے ہاتھوں میں جانی چاہئے ڈیمو کریسی جس پر آج یورپ فخر کرتا ہے اِس کی بنیاد سب سے پہلے قرآن ہی نے رکھی ہے۔قرآن ایک طرف تو تنظیم اور اطاعت پر زور دیتا ہے اور دوسری طرف حکام کو دیانت داری سے اپنے فرائض ادا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔قرآن سب سے پہلی کتا ب ہے جو حکام کے اقتدار پر تبر رکھتی ہے۔قرآن اسے تسلیم نہیں کرتا کہ کوئی ایک انسان بنی نوع انسان کی قسمتوں کا مالک بنے اور اگر وہ اِن سے اچھا سلوک کرے تو اس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ احسان کرتا ہے۔قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقوق عامۃ الناس کے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ امانتاً حکام کے سپرد کئے گئے ہیں اور جب وہ یہ امانت صحیح موقعوں پر اور صحیح طریق پر امانت رکھنے والوں کے سپرد کرتے ہیں تو وہ کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ صرف امانت والے کی امانت واپس کرتے ہیں۔وہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ حکام کے انتخاب کے وقت جنبہ داری یا رعایت کا خیال بالکل نہ رکھا جائے بلکہ جس طرح حاکم کا فرض ہے کہ وہ عامۃ الناس کے حقوق صحیح طور پر ادا کرے اسی طرح عامۃ الناس کا بھی فرض ہے کہ وہ ایسے شخص کو منتخب کریں جو ان کے حقوق کو ادا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو جو شخص پارٹی بازی یا جنبہ داری کی روح کے ماتحت ایک غیر مستحق شخص کو آگے لاتا ہے وہ اس کے افعال کی خرابیوں میں شریک ہے وہ یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ ظلم حاکم نے کیا ہے کیونکہ اس حاکم کے