دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 32

of some words of the text by placing points over them۔Should Elijah, Said he, approve the text, the points will be disregarded, should he disapprove, the doubtful ۵۰؎ words will be removed from the text۔`` ا ن عبارات سے ظاہر ہوتا ہے کہ توریت جس شکل میں بھی اُس وقت موجود تھی خواہ وہ عزرا کی لکھی ہوئی تھی خواہ پہلے سے کوئی نسخے موجود تھے وہ مشکوک تھی اور اس کی عبارتوں اور الفاظ کی نسبت قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ خد اتعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اُسی طرح محفوظ ہیں جس طرح نازل ہوئے تھے۔عزرا کی لکھی ہوئی کتاب جو موجودہ بائبلوں میں سے خارج کر دی گئی ہے اور جو درحقیقت موجودہ بائبلوں سے کم قابل اعتبار نہیں ہے اور جسے یونانی کی کتاب عزرا کہا جاتا ہے پہلے زمانے میں عزرا اور نحمیاہ کی کتابوں سے بھی پہلے بائبل میں درج کی جاتی تھی۔لیکن بعد کو جب اُس وقت کے پوپ نے جیروم سے جو عیسائیوں کا بہت بڑا پادری تھا بائبل کی تدوین کرائی تو اس نے عزرا کو اس بناء پر بائبل میں سے نکال دینے کا فیصلہ کر دیا کہ اس کا عبرانی نسخہ محفوظ نہیں۔اس کتاب کو بعض مصنف عزرا کی کتاب ثالث قرار دیتے ہیں اور بعض ثانی قرار دیتے ہیں۔اگرچہ یہ کتاب بائبل سے نکال دی گئی ہے لیکن پھر بھی اکثر حصہ یہودیوں اور مسیحیوں کا اس کو عزرا کی کتاب قرار دیتا ہے اور اس کتاب کے چودھویں باب میں لکھا ہے: ’’ دیکھو اے خدا میں جائوں گا جیسا کہ تُو نے مجھے حکم دیا تھا اور جو لوگ موجود ہیں میں اُن کو فہمائش کروں گا، لیکن جو لوگ بعد کو پیدا ہوں گے اُن کو کون فہمائش کرے گا۔اس طرح دنیا تاریکی میں ہے اور جو لوگ اِس میں رہتے ہیں بغیر روشنی کے ہیں کیونکہ تیرا قانون جل گیا۔پس کوئی نہیں جانتا اُن چیزوں کو جو تُوکرتاہے اور ان کاموں کو جو شروع ہونے والے ہیں لیکن اگر مجھ پر تیری مہربانی ہے تو تُوروح القدس کو مجھ میں بھیج اور میں لکھوں جو کچھ کہ دنیا میں ابتداء سے ہوا ہے اور جو کچھ تیرے قانون میں لکھا تھا تاکہ تیری راہ کو پاویں اور وہ لوگ جو اخیر زمانہ میں ہوں گے زندہ رہیں۔اُس نے مجھ کو یہ جواب دیا کہ جا اپنے راستہ سے لوگوں کو اکٹھا کر اور اُن سے کہہ وہ چالیس دن