دیباچہ تفسیر القرآن — Page 31
بائبل انسانی دست بُرد سے محفوظ نہیں ہے جب اس نقطۂ نگاہ سے ہم پہلی کتب کو دیکھتے ہیں تو وہ قطعی طور پر ہمارے لئے تسلی کا موجب ثابت نہیں ہوتیں۔عہد نامہ قدیم کے ماننے والے اس کو خدا تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں ، مسیحی بھی اسے خدا ئی کتاب قرار دیتے ہیں اور مسلمان بھی اسے خدا ہی کی طرف سے نازل شدہ کتاب قرار دیتے ہیں لیکن خدا کی طرف سے نازل ہونا اور بات ہے اور اُسی صورت میں آج تک موجود ہونا اور بات۔اور ان دونوں باتوں میں بڑ ابھاری فرق ہے۔بیشک مذکورہ بالا تینوں قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ عہد قدیم کے انبیاء سے خدا بولتا تھا لیکن عقیدۃً یہ تینوں قومیں اس بات پر متفق نہیں کہ موجوہ عہد نامۂ قدیم وہی کلام ہے جوان انبیاء پر نازل ہوا تھا اور نہ بیرونی اور نہ اندرونی شہادت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ موجودہ عہد نامۂ قدیم وہی کلام ہے جو بنی اسرائیل کے انبیاء پر نازل ہوا تھا۔اسرائیلی تاریخ اس بات پر متفق ہے کہ نبو کدنضر کے زمانہ میں اسرائیلی صحف جلا دئیے گئے تھے اور برباد کر دئیے گئے تھے اور دوبارہ انہیں عزرا نبی نے لکھا۔چنانچہ عزرا کی نسبت یہودی کتب میں لکھا ہے:۔’’ شریعت بھلا دی گئی تھی مگر عزرا نے پھر اسے دوبارہ قائم کیا‘‘۔۴۸؎ ``It was forgotten but Ezra restored it``۔پھر لکھا ہے۔عزرا نے تورات کو دوبارہ زندہ کیا اور اس میں اشورین حروف داخل کئے۔``Ezra established the text of pentateuch, introducing ۴۹؎therein the Assyian of square characters``۔اسی طرح لکھا ہے:۔’’ اس نے تورات کے دوبارہ لکھنے کے وقت مسودے کے بعض لفظوں کی صحت کے متعلق شبہ ظاہر کیا اور ان پر نشان لگا دیئے اور کہا کہ اگر ایلیا نبی اِس عبارت کی تصدیق کر ے تو یہ نشان غلط قرار دئیے جائیں اور اگر ان مشکوک سمجھی ہوئی عبارتوں کو مشکوک قرار دے تو جن الفاظ پر نشان لگا دئیے گئے ہیں اُنہیں آئندہ بائبل سے نکال دیا جائے۔``He showed his doubts concerning the correctness