دیباچہ تفسیر القرآن — Page 409
سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف علمی طبقہ ہی قرآن شریف کو یاد کرنے کی کوششیں نہیں کرتا تھا بلکہ عوام الناس بھی قرآن کو حفظ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔اِسی طرح مسند احمد بن حنبل میں ایک اور حدیث اِنہی راویوں کی روایت سے درج ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آیا اور اُس نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرا بیٹا دن کو قرآن پڑھتا رہتا ہے اور رات کو سو جاتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہارے لئے ناراضگی کی کونسی وجہ ہے تیرا بیٹا دن کو خد اکا ذکر کرتا ہے اور رات کو بجائے گناہوں میں مشغول ہونے کے آرام سے سو رہتا ہے۔اِن احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ حفظ قرآن کا دستور اتنا عام ہو چکا تھا کہ عامی اور دور دور کے علاقوں کے لوگ بھی قرآن شریف کو حفظ کرتے تھے۔(۵) چونکہ لوگوں میں حفظ قرآن کریم کا اشتیاق بہت تیز ہو گیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پڑھانے والے اُستادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی تھی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے اُستاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھر اُن کے ماتحت اور بہت سے صحابہؓ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے اِن چار بڑے اُستادوں کے نام یہ ہیں:۔(۱) عبداللہ بن مسعودؓ۔(۲) سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ۔(۳) معاذ بن جبلؓ۔(۴) ابی بن کعبؓ۔اِن میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبداللہ بن مسعودؓ ایک مزدور تھے۔سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے۔معاذ بن جبلؓ اور ابی بن کعبؓ مدینہ کے رئوساء میں سے تھے۔گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام گروہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دئیے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے خُذُوا الْقُراٰنَ مِنْ اَرْبَعَۃ (مِنْ) عَبْدِاللّٰہِ بِنْ مَسْعُوْد وَ سَالِمؓ وَ مُعَاذِ بِنْ جَبَلؓ وَاَبَیِّ بِنْ کَعْبؓ۔۵۳۲؎ جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ اِن چار سے قرآن پڑھیں۔عبداللہ بن مسعودؓ، سالمؓ ، معاذ بن جبلؓ اور ابی ابن کعبؓ۔یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی اللہ