دیباچہ تفسیر القرآن — Page 410
علیہ وسلم سے سیکھا یا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کرالی لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبداللہ بن مسعودؓ نے ایک لفظ کو اَور طرح پڑھا تو حضرت عمرؓ نے اُن کو روکا اور کہا کہ اِس طرح نہیں اِس طرح پڑھنا چاہئے۔اِس پر عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا نہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی طرح سکھایا ہے۔حضرت عمرؓ اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبداللہ بن مسعودؓ پڑھ کر سنائو۔جب اُنہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! مجھے تو آپ نے یہ لفظ اَور رنگ میں سکھایا ہے۔آپ نے فرمایا یہ بھی ٹھیک ہے۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چار صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ دوسرے لوگ بھی پڑھتے تھے چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ سوال کہ مجھے آپ نے اِس طرح پڑھایا ہے بتا تا ہے کہ حضرت عمرؓ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے تھے۔قرآن مجید کی مختلف قراء توں سے کیا مراد ہے یہ جواو پر ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ پر اعتراض کیا کہ اُنہوں نے اَور طرح قرآن پڑھا ہے اِس سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ قرآن کئی طرح پڑھاجا سکتا ہے۔اِس حقیقت کو صرف عربی دان سمجھ سکتا ہے کیونکہ یہ بات صرف عربی میں ہی پائی جاتی ہے کسی اور زبان میں نہیں پائی جاتی۔عربی زبان میں ماضی اور مضارع کے جو صیغے ہیں اُن کے زیر اور زبر کئی طرح جائز ہوتے ہیں لیکن معنی نہیں بدلتے۔کسی حرف کے نیچے زیر لگا لیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور اگر اُس پر زبر پڑھیں تب بھی جائز ہوتا ہے اور معنی ایک ہی رہتے ہیں۔کبھی تو یہ عام قاعدہ کے طور پر فرق ہوتا ہے یعنی علمی زبان میں اس لفظ کو کئی طرح بولنا جائز ہوتا ہے اور بعض موقعوں میں یہ فرق قبائل کے لحاظ سے ہوتا ہے یعنی بعض قبائل یا بعض خاندان ایک لفظ زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ پر زبر چڑھی ہوئی ہوتی ہے اور بعض لوگوں کے منہ پر زیر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔رسول اللہ