دیباچہ تفسیر القرآن — Page 403
کبر سے آپ روکتے تھے کہ یہ چیزیں بھی درحقیقت قوم کو پستی کی طرف لے جاتی ہیں آپ کا حکم تھا کہ ان دونوں کے درمیان راستہ ہونا چاہئے۔نہ انسان فخر اور کبر کا راستہ اختیار کرے اور نہ مایوسی اور ناامیدی کا راستہ اختیار کرے بلکہ کام کرے مگر نتیجہ کی امید خدا تعالیٰ پر ہی رکھے۔اپنی جماعت کی ترقی کی خواہش اس کے دل میں ہو مگر فخر اور کبر پیدا نہ ہو۔جانوروں سے حسنِ سلوک آپ جانوروں تک پر ظلم کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل میں ایک عورت کو اِس لئے عذاب ملا کہ اس نے اپنی بلی کو بھوکا مار دیا تھا۔اِسی طرح فرماتے تھے پہلی اُمتوں میں سے ایک شخص اِس لئے بخشا گیا کہ اُس نے ایک پیاسا کتا دیکھا پاس ایک گہرا گڑھا تھا جس میں سے کتا پانی نہیں پی سکتا تھا۔اُس آدمی نے اپنا بوٹ پائوں سے کھولا اور گڑھے میں اُس بوٹ کو لٹکا کر اس کے ذریعہ پانی نکالا اور کتے کو پلا دیا۔اِس نیکی کی وجہ سے خد اتعالیٰ نے اُس کے تمام گزشتہ گناہ بخش دیئے۔۵۲۳؎ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ سفر پر جار ہے تھے کہ ہم نے ایک فاختہ کے دو بچے دیکھے بچے ابھی چھوٹے تھے ہم نے وہ بچے پکڑ لئے جب فاختہ واپس آئی تو وہ چاروں طرف گھبرا کر اُڑنے لگی اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس مجلس میں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا۔اِس جانور کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف دی؟ فوراً اس کے بچوں کو چھوڑ دو تاکہ اِس کی دلجوئی ہو جائے۔۵۲۴؎ اِسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے چیونٹیوں کا ایک غار دیکھا اور ہم نے پھونس ڈال کر اُسے جلا دیا۔اِس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ ایسا کرنا مناسب نہیں۔۵۲۵؎ ایک دفعہ آپ نے دیکھا کہ ایک گدھے کے منہ پر نشان لگایا جارہا ہے۔آپ نے فرمایا ایسا نشان کیوں لگا رہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ رومی لوگوں میں اعلیٰ گدھوں کی پہچان کے لئے نشان لگایا جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایسا مت کیا کرو۔منہ جسم کا نازک حصہ ہے۔اگر نشان لگانا ہی پڑے تو جانور کی پیٹھ پر نشان لگا دیا کرو۔چنانچہ اُسی وقت سے