دیباچہ تفسیر القرآن — Page 402
اور اپنے آپ کو بھائی بھائی سمجھو جس طرح خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔۵۱۹؎ پھر فرماتے یاد رکھو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتاہے نہ مصیبت کے وقت اُس کا ساتھ چھوڑتا ہے نہ مال یا علم یاکسی اور چیز کی کمی کی وجہ سے اُس کو حقیر سمجھتا ہے۔تقویٰ انسان کے دل سے پیدا ہوتا ہے اور انسان کو گندہ کردینے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔اور ہر مسلمان پر اس کے دوسرے مسلمان بھائی کے خون اور اس کی عزت اور اس کے مال پر حملہ کرنا حرام ہے اللہ تعالیٰ جسموں کو نہیں دیکھا کرتا نہ صورتوں کو دیکھتا ہے نہ تمہارے اعمال کی ظاہری حالت کو دیکھتا ہے بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔۵۲۰؎ سَودا سلف کے متعلق دھوکا بازی اور فریب سے نفرت آپ اِس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ مسلمانوں میں دھوکا اور فریب کی کوئی بات نہ پائی جائے۔ایک دفعہ آپ بازار میں سے گذر رہے تھے کہ آپ نے غلہ کا ایک ڈھیر دیکھا جو نیلام ہورہا تھا۔آپ نے اپنا ہاتھ غلّہ کے ڈھیر میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ باہر کی طرف سے تو غلّہ سُوکھا ہوا ہے مگر اندر کی طرف سے گیلا ہے۔آپ نے اپنا ہاتھ نکال کر غلّہ والے سے کہا کہ یہ کیابات ہے۔اس نے کہا۔یَارَسُوْلَ اللّٰہ! بارش کا چھینٹا آگیا تھا جس سے غلّہ گیلا ہوگیا۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر تم نے گیلا حصہ باہر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجاتا۔پھر فرمایا جو شخص دوسرے لوگوں کو دھوکا دیتا ہے وہ جماعت کا مفید وجود نہیں ہوسکتا۔۵۲۱؎ آپ بڑی تاکید سے فرماتے تھے کہ تجارت میں بالکل دھوکا نہیں ہونا چاہئے اور بغیر دیکھے کے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے اور سَودے پر سَودا نہیں کرناچاہئے اور سامان کو اس لئے روک نہیں رکھنا چاہئے کہ جب اِس کی قیمت بڑھ جائے گی تو اِس کو فروخت کریں گے۔بلکہ حاجتمندوں کو ساتھ کے ساتھ چیزیں دیتے رہنا چاہئے۔مایوسی آپ مایوسی کی روح کے سخت خلاف تھے۔فرماتے تھے جوشخص قوم میں مایوسی کی باتیں کرتا ہے وہ قوم کی ہلاکت کا ذمہ دار ہوتا ہے۵۲۲؎ کیونکہ بعض ایسی باتوں کے پھیلنے سے قوم کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور پستی کی طرف مائل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس طرح فخر اور