دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 356

سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرنے کے بعد اب میں آپ کے اخلاق کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔آپ کے اخلاقِ حسنہ کے متعلق مجموعی شہادت وہ ہے جو آپ کی قوم نے دی کہ آپ کی نبوت کے دعویٰ سے پہلے آپ کی قوم نے آپ کا نام امین اور صدیق رکھا۔۳۹۳؎ دنیا میں ایسے لوگ بہت ہوتے ہیں جن کی نسبت بددیانتی کا ثبوت نہیں ملتا۔ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں جن کو کسی کڑی آزمائش میں سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ہاں وہ معمولی آزمائشوں سے گزرتے ہیں اور ان کی امانت قائم رہتی ہے لیکن اِس کے باوجود ان کی قوم ان کو کوئی خاص نام نہیں دیتی۔اس لئے کہ خاص نام اُسی وقت دئیے جاتے ہیں جب کوئی شخص کسی خاص صفت میں دوسرے تمام لوگوںپر فوقیت لے جاتا ہے۔لڑائی میں شامل ہونے والا ہر سپاہی اپنی جان کو خطرہ میں ڈالتا ہے لیکن نہ انگریزی قوم ہر سپاہی کو وکٹوریہ کراس دیتی ہے نہ جرمن قوم ہر سپاہی کو آئرن کراس دیتی ہے۔فرانس میں علمی مشغلہ رکھنے والے لوگ لاکھوں ہیں لیکن ہر شخص کو لیجنآف آنر (LEGION OF HONOUR) کا فیتہ نہیں ملتا۔پس محض کسی شخص کا امانت دار اور صادق ہونا اُس کی عظمت پر خاص روشنی نہیں ڈالتا۔لیکن کسی شخص کو ساری قوم کا امین اور صدیق کا خطاب دے دینا یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔اگر مکہ کے لوگ ہر نسل کے لوگوں میں سے کسی کو امین اور صدیق کا خطاب دیا کرتے تب بھی امین اور صدیق کا خطاب پانے والا بہت بڑا آدمی سمجھا جاتا، لیکن عرب کی تاریخ بتاتی ہے کہ عرب لوگ ہر نسل میں کبھی کسی آدمی کو یہ خطاب نہیں دیا کرتے تھے بلکہ عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں صرف ایک ہی مثال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملتی ہے کہ آپ کو اہل عرب نے امین اور صدیق کا خطاب دیا۔پس عرب کی سینکڑوں سال کی تاریخ میں قوم کاایک ہی شخص کو امین اور صدیق کا خطاب دینا