دیباچہ تفسیر القرآن — Page 349
نے استدال کیا کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہو گی۔۳۸۲؎ چونکہ اُس وقت آپ کی عمر باسٹھ تریسٹھ سال کی تھی آپ نے اِس طرف اشارہ فرمایا کہ میری عمر اب ختم ہونے والی معلوم ہوتی ہے۔اس حدیث کے یہ معنی نہیں کہ ہر نبی اپنے سے پہلے آنے والے نبی سے آدھی عمر پاتا ہے بلکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر اور اپنی عمر کا مقابلہ کیا ہے) اور مجھے خیال ہے کہ اب جلدی مجھے بلایا جائے گا اور میں فوت ہو جائوں گا۔اے میرے صحابہ ؓ ! مجھ سے بھی خدا کے سامنے سوال کیا جائے گا اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا تم اُس وقت کیا کہو گے؟ اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم کہیںگے کہ آپ نے خوب اچھی طرح اسلام کی تبلیغ کی اور آپ نے اپنی زندگی کو کُلّی طور پر خدا کے دین کی خدمت کے لئے لگا دیا اور آپ نے بنی نوع انسان کی خیر خواہی کو کمال تک پہنچا دیا۔اللہ آپ کو ہماری طرف سے بہتر سے بہتر بدلہ دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کیا تم اِس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ ایک ہی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے بندے اور رسول ہیں اور جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور یہ کہ موت بھی ہر انسان کو ضرور آنی ہے اور موت کے بعد زندگی بھی ہر انسان کو ضرور ملے گی اورقیامت بھی ضرور آنی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کو قبروں میں سے دوبارہ زندہ کر کے اکٹھا کرے گا۔انہوں نے کہا ہاں یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! ہم اِس کی گواہی دیتے ہیں۔اِس پر آپ نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے اللہ! تو بھی گواہ رہ کہ میںنے انہیں اصولِ اسلام پہنچا دئیے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اِس حج سے واپس آنے کے بعد برابر مسلمانوں کے اخلاق اور ان کے اعمال کی اصلاح میں مشغول رہے اور مسلمانوں کو اپنی وفات کے دن کی امید کے لئے تیار کرتے رہے۔ایک دن آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا۔آج مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ اُس دن کو یاد کرو جب خدا تعالیٰ کی نصرتیں اور اُس کی طرف سے فتوحات گزشتہ زمانہ سے بھی زیادہ زور سے آئیںگی اور ہر قوم و ملت کے لوگ اسلام میں فوج درفوج داخل ہونے شروع ہوں گے۔پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب تم خدا تعالیٰ کی تعریف میں لگ جائو اور اُس سے دعا کرو کہ دین کی بنیاد جو تم نے قائم کی ہے وہ اِس