دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 350

میں سے ہر قسم کے رخنوں کو دُور کرے۔اگر تم یہ دعائیں کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری دعائوں کو سنے گا۔اِسی طرح آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے بندے سے کہا کہ خواہ تم ہمارے پاس آجائو اور خواہ تم دنیا کی اصلاح کا کام بھی کچھ اَور مدت کرو۔خداکے اس بندے نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنا زیادہ پسند ہے۔جب آپ نے یہ بات مجلس میں سنائی تو حضرت ابوبکرؓ رو پڑے۔صحابہؓ کو تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کی فتوحات کی خبر سنا رہے اور ابوبکرؓ رو رہے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے کہا اِس بڈھے کو کیا ہو گیا کہ یہ خوشی کی خبر پر روتا ہے! مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ابوبکرؓ ہی آپ کی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور اُس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر ہے۔آپ نے فرمایا ابوبکرؓ مجھ کو بہت ہی پیارا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے سِوا کسی سے غیر محدود پیار کرنا جائز ہوتا تو میں ابوبکرؓ سے ایسا ہی پیار کرتا۔ا ے لوگو! مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں آج سے سب دروازے بند کر دئیے جائیںصرف ابوبکرؓ کا دروازہ کھلا رہے۔۳۸۳؎ اِس میں یہ پیشگوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوں گے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں اس راستہ سے آناپڑے گا۔اس واقعہ کے مدتوں بعد جب حضرت عمرؓ خلیفہ تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا بتا ئو والی سورۃ میں سے کیا مطلب نکلتا ہے؟ گویا اس مضمون کے متعلق آپ نے اپنے ہم مجلسوں کا امتحان لیا جس کے سمجھنے سے وہ اس سورۃ کے نزول کے وقت قاصر رہے تھے۔ابن عباسؓ جو اِس واقعہ کے وقت دس گیارہ برس کے تھے اُس وقت کوئی ۱۷۔۱۸ سال کے نوجوان تھے۔باقی صحابہ تو نہ بتا سکے ا بن عباسؓ نے کہا اے امیر المؤمنین! اس سورۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے کیونکہ نبی جب اپنا کام کر لیتا ہے تو پھر دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا۔حضرت عمرؓ نے کہا سچ ہے میں تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں۔۳۸۴؎ جب یہ سورۃ نازل ہوئی ابوبکر اس کامفہوم سمجھے مگر ہم نہ سمجھ سکے۔آخر وہ دن آگیا جو ہر انسان پر آتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام دنیا میں ختم کر چکے، خدا کی وحی تمام و کمال نازل ہو چکی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ سے