دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 330

خدائے واحد کی عبادت کرنے والے غریب بندوں پر کئے تھے؟ مکہ کے لوگوں نے کہا ہم آپ سے اُسی سلوک کی اُمید رکھتے ہیں جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔یہ خدا کی قدرت تھی کہ مکہ والوں کے منہ سے وہی الفاظ نکلے جن کی پیشگوئی خدا تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں پہلے سے کر رکھی تھی اور فتح مکہ سے دس سال پہلے بتا دیا تھا کہ تو مکہ والوں سے ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔پس جب مکہ والوں کے منہ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوسف ؑ کے مثیل تھے اور یوسف ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بھائیوں پر فتح دی تھی تو آپ نے بھی اعلان فرما دیا کہ تَاللّٰہِ لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔خدا کی قسم! آج تمہیں کسی قسم کا عذاب نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کسی قسم کی سرزنش کی جائے گی۔۳۶۵؎ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زیارتِ کعبہ کی متعلقہ عبادتوں میں مصروف تھے اور اپنی قوم کے ساتھ بخشش اور رحمت کا معاملہ کر رہے تھے تو انصار کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جا رہے تھے اور وہ ایک دوسرے سے اشاروں میں کہہ رہے تھے شاید آج ہم خدا کے رسول کو اپنے سے جدا کر رہے ہیں کیونکہ ان کا شہر خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح کر دیا ہے اور ان کا قبیلہ ان پر ایمان لے آیا ہے اُس وقت اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ سے انصار کے ان شبہات کی خبر دے دی۔آپ نے سر اُٹھایا، انصار کی طرف دیکھا اور فرمایا اے انصار! تم سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت ستاتی ہو گی اور اپنی قوم کی محبت اس کے دل میں گدگدیاں لیتی ہو گی۔انصار نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ درست ہے ہمارے دل میں ایسا خیال گزرا تھا۔آپ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے میرا نام کیا ہے؟ مطلب یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول کہلاتا ہوں پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم لوگوں کو جنہوں نے دین اسلام کی کمزوری کے وقت میں اپنی جانیںقربان کیں چھوڑ کر کسی اور جگہ چلا جائوں۔پھر فرمایا اے انصار! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا میں اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں۔میں نے خدا کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا تھا اور اس کے بعد اب میں اپنے وطن میں واپس نہیں آسکتا۔میری زندگی تمہاری زندگی سے ہے اور میری موت تمہاری موت سے وابستہ ہے۔مدینہ کے لوگ آپ