دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 315

بادشاہ اس کی وجہ سے ہم سے باز پُرس نہ کرے۔پس اُس نے اپنی خیر اِسی میں سمجھی کہ پیغامبر کو مار دے تاکہ نہ پیغام پہنچے اور نہ کوئی تحقیقات ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُس کے ان بدارادوں کو پورا نہ ہونے دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حرثؓ کے مارے جانے کی خبر کسی نہ کسی طرح پہنچ ہی گئی اور آپ نے اس پہلے واقعہ اور اس واقعہ کی سزا دینے کے لئے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے زید بن حارثہؓ ( جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے اور جن کا آپ کی مکی زندگی میں ذکر آچکا ہے) کی ماتحتی میں شام کی طرف بھجوایا اور حکم دیا کہ زید بن حارثہؓ فوج کے کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ مارے گئے تو عبداللہ بن رواحہؓ کمانڈر ہوں گے اور اگر وہ بھی مارے جائیں تو مسلمان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں۔اُس وقت ایک یہودی آپ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔اُس نے کہا اے ابو القاسم! اگر آپ سچے ہیں تو یہ تینوں آدمی ضرور مارے جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا کر دیا کرتا ہے۔پھر وہ زیدؓ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خد اکے سچے نبی ہیں تو تم کبھی زندہ واپس نہیں آئو گے۔زیدؓ نے جواب میں کہا میں واپس آئوں یا نہ آئوں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خد ا کے سچے نبی ہیں۔دوسرے دن صبح کے وقت یہ لشکر روانہ ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس کو چھوڑنے کے لئے گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کی افسری کے بغیر اتنا بڑا لشکر کسی مسلمان جرنیل کے ماتحت کسی اہم کام کیلئے نہیں گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے جاتے تھے اور انہیں نصیحتیں کرتے جاتے تھے۔آخر مدینہ کے باہر اُس مقام پر جا کر جہاں سے آپ مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور جس جگہ پر عام طور پر مدینہ والے اپنے مسافروں کور خصت کیا کرتے تھے، آپ کھڑے ہو گئے اور کہا میں تم کو اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ جتنے مسلمان ہیں اُن سے نیک سلوک کرنے کی۔تم اللہ کا نام لے کر جنگ پر جائو اور تمہارے اور خدا کے دشمن جو شام میں ہیں اُن سے جا کر لڑائی کرو۔جب تم شام میں پہنچو گے تو وہاںتمہیں ایسے لوگ ملیں گے جو عبادت گاہوں میں بیٹھ کر خدا کا نام لیتے ہیں تم اُن سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنا اور نہ اُنہیں تکلیف پہنچانا اور نہ دشمن کے ملک میں کسی