دیباچہ تفسیر القرآن — Page 16
میں تیر کر منزلِ مقصود تک پہنچ گئے اور یہ کام انسانی طاقت سے باہر ہے۔بانیانِ مذاہب کے ذریعہ نشانات و معجزات کا ظہور ۵۔جس قدر بانیانِ مذاہب گزرے ہیں سب کے ہاتھوں سے ایسے نشانات اور معجزات ظاہر ہوئے ہیں جن کا ظہور کسی انسان کے ہاتھو ںسے نہیںہو سکتا۔سب سے پہلے توان میں سے ہر ایک نے اپنے دعویٰ کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی ہے کہ میری تعلیم پھیل کر رہے گی اور اس کے ساتھ ٹکرانے والا خود پاش پاش ہو جائے گا اور باوجود اس کے کہ دُنیوی لحاظ سے وہ بہت کمزور تھے، دُنیوی علوم کے لحاظ سے صفر تھے اور زمانہ کی رَو کے خلاف تعلیم دینے والے تھے اور باوجود اِس کے کہ ان کی شدید ترین مخالفت کی گئی پھر بھی وہ غالب آئے اوران کی بتائی ہوئی خبر پوری ہوئی۔کون انسان قبل ازوقت ایسی خبر دے سکتا ہے اور پھر کون سی انسانی طاقت اسے پورا کروا سکتی ہے۔انبیاء کی ترقی اور دنیاوی لیڈروں کی ترقی میں فرق اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض دوسرے انسانوں نے بھی غیر معمولی ترقیاں کی ہیں مگر یہاں سوال غیر معمولی ترقی کا نہیں بلکہ سوال اس بات کا ہے کہ ان لوگوںنے خد اتعالیٰ کی طرف منسوب کر کے اپنی ترقی کا اعلان کیا اوراپنی اخلاقی زندگی اور موت کو اس پیشگوئی کے ساتھ وابستہ کر دیا اور پھر زمانہ کی رَو کے خلاف چلے۔بیشک نپولین،۳۱؎ ہٹلر،۳۲؎ اور چنگیز خان۳۳؎ نے بھی ادنیٰ حالت سے ترقی کی لیکن وہ زمانہ کی رَو کے خلاف نہ چلے تھے۔انہوں نے کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ خد اتعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ باوجود مخالفت کے تم جیت جائو گے۔پھر ان کی کبھی شدید مخالفت نہیں ہوئی کیونکہ جس بات کا وہ اعلان کر رہے تھے ملک کے اکثر افراد خود اس کے خواہشمند تھے۔ذرائع میں اختلاف ہوتو ہو مگر مقصود میںاختلاف نہیں تھا۔اگر وہ ہار جاتے یا ہار گئے تو ان کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔باوجود اس کے وہ قوم کے لیڈر بنے رہے اور یہی امید کرتے تھے کہ ہم ہی بنے رہیں مگر ذرا خیال تو کرو کہ اگر موسٰیؑ اور عیسٰیؑ اور کرشن ؑاور زرتشت ؑاور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ ناکام رہتے تو کیا وہ آئندہ نسلوں میں قوم کے ہیرو کے طور پر یاد کئے جا سکتے تھے