دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 15

بانیانِ مذاہب زمانہ کی رَو کے خلاف تعلیم دیتے تھے ۴۔جس قدر بانیانِ مذاہب گزرے ہیں ان کی تعلیم پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ہی وہ زمانہ کی رَو کے خلاف رہی ہے۔اگر ان کی تعلیمیں زمانہ کی رَو کے مطابق ہوتیں تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے ذہنی ارتقاء کے نمائندے تھے لیکن وہ لوگ تو اپنے زمانہ کی تعلیم کو نہ صرف ردّ کرتے تھے بلکہ اس کے خلاف ایک اور تعلیم بھی پیش کرتے تھے جس کی وجہ سے ملک میں ایک آگ لگ جاتی تھی لیکن باوجود اس کے ان کے مخاطب ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔یہ چیز بھی بتاتی ہے کہ وہ نمائندۂ انسان نہیں تھے بلکہ حقیقی مصلح اور خد اتعالیٰ کے نبی تھے۔موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک خدا کی تعلیم کتنی عجیب چیز تھی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں جبکہ مادیت کچھ یہود کی دنیا پرستی کی وجہ سے اور کچھ رومی حکومت کے غلبہ کی وجہ سے فلسطین پرغالب آرہی تھی روحانیت پر زور دینا اور دنیا طلبی کے خلاف وعظ کرنا اور اُس وقت جبکہ یہود رومی کوڑوں کے نیچے تلملا رہے تھے اور انتقام کے جذبات ان کے دل میں پیدا ہو رہے تھے، انہیں عفواورر حم کی تعلیم دینا کتنی عجیب بات تھی۔ہندوستان میں ایک طرف کرشن ؑ کا لڑائی کی تعلیم دینااور دوسری طرف مادیت سے دل ہٹا کر خدا تعالیٰ کے ساتھ لَو لگانے کی تعلیم دینا اُس زمانہ کے حالات کے کیسا خلاف تھا۔زرتشتی تعلیم بھی جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھی ایران جیسے آزاد خیال لوگوں کیلئے کتنی ناقابل قبول تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عرب میں پیدا ہو کر یہودیوں اور عیسائیوں کو دعوت دینا جبکہ مسیحیوں اور یہودیوں کے نزدیک ان کے مذہب کے سوا کہیں اور ہدایت نہیں پائی جاتی تھی اور مکہ والوں کو جوکہ شرک میں ڈوبے ہوئے تھے تو حید کی تعلیم دینا اورجو اپنی نسلی برتری کے خیالات میں مگن تھے انہیں تمام بنی نوع انسان کے برابر ہونے کا پیغام پہنچانا، شراب میں مست اور جوئے میں غرق رہنے والوں کو شراب کی حرمت اور جوئے کی شناعت کی تعلیم دینا بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے متعلق رائج الوقت خیالات اور اعمال کی مخالفت کرنا اور اس کی جگہ ایک نئی تعلیم پیش کرنا اور پھر اس میں کامیاب ہو جانا بتاتا ہے کہ آپ پہاڑ کی چوٹی سے پوری شدت کے ساتھ گرنے والے دریا کی مخالف سمت