دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 14

مائے تو ان کی قوم نے کہا ۲۹؎ اے صالح! تُو تو اِس دعویٰ سے پہلے ہماری اُمیدوں کا مرکز تھا تُو نے یہ کیا کیا کہ تُو نے ہمیں اُس عبادت سے روک دیا جو ہمارے باپ دادا ایک مدت سے کرتے چلے آرہے تھے۔اِسی طرح حضرت شعیبؑ کے متعلق اُن کی قوم نے کہا۔۳۰؎ اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے طریقوں کو ترک کر دیں یا ہم اپنے اموال کی تقسیم میں تیری ہدایات کی تقلید کریں اور اپنی مرضی چھوڑ دیں۔تُو تو بڑا حلیم اور رشید تھا تجھے کیا ہوا ہے کہ تُو ایسی غلط تعلیم دینے لگا۔اِن آیات سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت صالحؑ، حضرت شعیبؑ اور اسی طرح باقی تمام انبیاء کے متعلق قرآن کریم میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ کوئی گمنام آدمی نہ تھے۔ان کی اقوام ان کی زندگیوں پر شاہد تھیں اور ان کی نیکی، تقویٰ اور عبادت پر گواہ تھیں اور یہ نہیں کہہ سکتی تھیں کہ کسی پوشیدہ حالات والے یا بدکار شخص نے قوم کو لُوٹنے کی تجویز کی ہے۔بانیانِ مذاہب اور دُنیوی تعلیم ۳۔تمام کے تمام بانیانِ مذاہب دُنیوی تعلیم کے لحاظ سے قریباً کورے تھے لیکن جو تعلیم اُنہوں نے لوگوں کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے دی ہے وہ نہایت ہی اعلیٰ، مناسب حال اور مناسب زمانہ ہے اور اُس پر چل کر ان کی قوم نے صدیوں تک تہذیب اور شائستگی میں دنیا کی راہنمائی کی ہے۔یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ جو شخص دُنیوی علوم سے بے بہرہ ہے وہ خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے یکدم ایسی قدرت حاصل کر لیتا ہے کہ اس کی بتائی ہوئی تعلیم اُس زمانہ کی تعلیمات پر فائق ہو اور ان پر غالب آ جائے، یہ کام تو صرف ایک بالا ہستی کی تائید ہی سے ہو سکتا ہے۔