دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 224

ریتلا میدان اِس لئے چھوڑ دیا تھا کہ مسلمان وہاں ڈیرہ لگائیں گے اورجنگی حرکات کرتے وقت اُن کے پائوں ریت میں دھنس دھنس جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے راتوں رات پانسہ پلٹ دیا۔ریتلا میدان ایک جما ہوا پختہ میدان ہو گیا اور پختہ میدان پھسلویں زمین بن گیا۔رات کو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دی اور بتایا کہ تمہارے فلاں فلاں دشمن مارے جائیں گے اور فلاں فلاں جگہ پر مارے جائیں گے۔چنانچہ جنگ میں ایسا ہی ہوا اور وہ دشمن اُن ہی جگہوں پر جو آپ نے بتائی تھیں مارے گئے۔جب فوج ایک دوسرے کے مقابلہ میں صف آراء ہوئی اُس وقت جو اخلاص کا نمونہ صحابہؓ نے دکھایا اُس پر مندرجہ ذیل مثال سے خوب روشنی پڑتی ہے۔اِسلامی لشکر میں جو چند تجربہ کار جرنیل تھے، اُن میں سے ایک حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی تھے جو مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔وہ روایت کرتے ہیں کہ میرا خیال تھا کہ آج مجھ پر بہت سی ذمہ داری عاید ہوتی ہے اور اس خیال سے میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے دائیں بائیں مدینہ کے دو نوجوان لڑکے ہیں تب میرا دل سینہ میں بیٹھ گیا اور میں نے کہا بہادر جرنیل لڑنے کے لئے اِس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اُس کا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط ہو، تاکہ وہ دشمن کی صفوں میں دلیری سے گھس سکے، لیکن میرے گرد مدینہ کے ناتجربہ کار لڑکے ہیں میں آج اپنے فن کا مظاہرہ کس طرح کر سکوں گا۔ابھی یہ خیال میرے دل میں گزرا ہی تھا کہ میرے ایک پہلو میں کھڑے ہوئے لڑکے نے میری پسلی میں کہنی ماری۔جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے میرے کان میں کہا چچا! ہم نے سنا ہے کہ ابوجہل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبہت دُکھ دیا کرتا تھا، چچا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اُس کے ساتھ مقابلہ کروں آپ مجھے بتائیں وہ کون ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں جواب دینے نہیں پایا تھا کہ میرے دوسرے پہلو میں دوسرے ساتھی نے کہنی ماری اور جب میں اُس کی طرف متوجہ ہوا تو اُس نے بھی آہستہ سے وہی سوال مجھ سے کیا۔وہ کہتے ہیں کہ میں اُن کی اِس دلیری پر حیران رہ گیاکیونکہ باوجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میںبھی یہ خیال نہیں کرتا تھا کہ لشکر کے کمانڈر پر اکیلا جا کر حملہ کر سکتا ہوں۔وہ کہتے ہیں میں نے اُن کے اِس سوال پر اُنگلی اُٹھائی اور کہا وہ شخص جو سر