دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 215

اپنے بھائی کو اپنے گھر پر لے گیا اور اپنی جائیداد اُس کے سامنے پیش کردی کہ اُسے نصف نصف بانٹ لیا جائے۔ایک انصاری نے تو یہاں تک حد کر دی کہ اپنے مہاجر بھائی سے اصرار کیا کہ میں اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تم اُس سے شادی کر لو۔۲۴۵؎ مگر مہاجرین نے اُ ن کے اِس اخلاص کا شکریہ ادا کر کے اُن کی جائیدادوں میں سے حصہ لینے سے انکار کر دیا۔مگر پھر بھی انصار مصر رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے عرض کیا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! جب یہ مہاجرین ہمارے بھائی ہو گئے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے مال میں حصہ دار نہ ہوں۔ہاں چونکہ یہ زمیندارہ سے واقف نہیں اور تاجر پیشہ لوگ ہیں اگر یہ ہماری زمینوں سے حصہ نہیں لیتے تو پھر ہماری زمینوں کی جو آمدنیاں ہوں اِس میں ضرور ان کو حصہ دار بنایا جائے۔مہاجرین نے اِس پر بھی اُن کے ساتھ حصہ دار بننا پسند نہ کیا اور اپنے آبائی پیشہ تجارت میں لگ گئے اور تھوڑے ہی دنوں میں اُ ن میں سے کئی مالدار ہو گئے۔مگر انصار اِس حصہ بٹانے پر اتنے مصر تھے کہ بعض انصار جو فوت ہوئے اُن کی اولادوں نے عرب کے دستور کے مطابق اپنے مہاجر بھائیوں کو مرنے والے کی جائیداد میں سے حصہ دیا اور کئی سال تک اس پر عمل ہوتا رہا۔یہاں تک کہ قرآن کریم میں اِس عمل کی منسوخی کا ارشاد نازل ہوا۔مہاجرین و انصار اور یہود کے مابین معاہدہ علاوہ مسلمانوں کو بھائی بھائی بنانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہل مدینہ کے درمیان ایک معاہدہ کرایا۔آپ نے یہودیوں اور عربوں کے سرداروں کو جمع کیا اور فرمایا۔پہلے یہاں صرف دو گروہ تھے مگر اب تین گروہ ہو گئے ہیں۔یعنی پہلے تو صرف یہود اور مدینہ کے عرب یہاں بستے تھے مگر اب یہود، مدینہ کے عرب اور مکہ کے مہاجر تین گروہ ہو گئے ہیں۔اِس لئے چاہئے کہ آپس میںایک صلح نامہ قائم ہوجائے۔چنانچہ آپس کے سمجھوتے کے ساتھ ایک معاہدہ لکھا گیا اس معاہدہ کے الفاظ یہ ہیں:۔’’ معاہدہ مابین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،مؤمنوں اور اُن تمام لوگوں کے جو اُن سے بخوشی مل جائیں۔مہاجرین سے اگر کوئی قتل ہو جائے تو وہ اُس کے خون کا ذمہ دار خود ہوں گے اور