دیباچہ تفسیر القرآن — Page 214
مدینہ سے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلوا دیں۔چنانچہ یہ مشورہ کرکے مکہ کے لوگوں نے عبداللہ ابن ابی بن سلول کے نام جس کی نسبت پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اُسے اپنا بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا خط لکھا اور اسے توجہ دلائی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ جانے کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کو بہت صدمہ ہوا ہے۔مدینہ کے لوگوں کو چاہئے نہیں تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دیتے۔اِس کے آخر میں یہ الفاظ تھے’’ اِنَّکُمْ اٰوَیْتُمْ صَاحِبَنَا وَاِنَّا نُقْسِمُ بِاللّٰہِ لَتُقَاتِلَنَّہٗ اَوْتُخْرِجَنَّہٗ اَوْلَنُسَیِّرَنَّ اِلَیْکُمْ بِاَجْمَعِنَا حَتّٰی نَقْتُلَ مُقَاتِلَتَکُمْ وَنَسْتَبِیْحَ نِسَائَ کُمْ۔‘‘ ۲۴۴؎ یعنی اب جبکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے گھروں میں پناہ دی ہے ہم خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ یاتو تم مدینہ کے لوگ اس کے ساتھ لڑائی کر و یا اُسے اپنے شہر سے نکال دو نہیں تو ہم سب کے سب مل کر مدینہ پر حملہ کریں گے اور مدینہ کے تمام قابل جنگ آدمیوں کو قتل کر دیںگے اورعورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے۔اِس خط کے ملنے پر عبداللہ ابن ابی بن سلول کی نیت کچھ خراب ہو ئی اور اُس نے دوسرے منافقوں سے مشورہ کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے یہاںر ہنے دیا تو ہمارے لئے خطرات کا دروازہ کھل جائے گا اِس لئے چاہئے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑائی کریں اور مکہ والوں کو خوش کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع مل گئی اور آپ عبداللہ ابن ابی بن سلول کے پاس گئے اور اُسے سمجھایا کہ تمہارا یہ فعل خود تمہارے لئے ہی مضر ہو گا۔کیونکہ تم جانتے ہو کہ مدینہ کے بہت سے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اِسلام کے لئے جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اگر تم ایساکرو گے تو وہ لوگ یقینا مہاجرین کے ساتھ ہوں گے اور تم لوگ اِس لڑائی کو شروع کر کے بالکل تباہ ہو جائو گے۔عبداللہ ابن ابی بن سلول پر اپنی غلطی کھل گئی اور وہ اِس ارادہ سے باز آگیا۔انصار و مہاجرین میں مؤاخات اِنہی ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تدبیر اِسلام کی مضبوطی کے لئے اختیار کی اور وہ یہ کہ آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور دو دو آدمیوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔اِس مؤاخات یعنی بھائی چارے کا انصار نے ایسی خوشدلی سے استقبال کیا کہ ہر انصاری