دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 210

تھی۔مگر چودھویں رات کا چاند تو مشرق سے چڑھا کرتا ہے۔پس مدینہ کے لوگوں کا اشارہ اِس بات کی طرف تھا کہ اصل چاند تو روحانی چاند ہے۔ہم اِس وقت تک اندھیرے میں تھے اب ہمارے لئے چاند چڑھا ہے اور چاند بھی اُس جہت سے چڑھا ہے جدھر سے وہ چڑھا نہیں کرتا۔یہ پیر کا دن تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اور پیر ہی کے دن آپ غارِ ثور سے نکلے تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ پیر ہی کے دن مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ آپ اُس کے گھر میں ٹھہریں۔جس جس گلی میں سے آپ کی اُونٹنی گزرتی تھی اُس گلی کے مختلف خاندان اپنے گھروں کے آگے کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرتے تھے اور کہتے تھے۔یَارَسُوْلَ اللّٰہ!یہ ہمارا گھر ہے اور یہ ہمارا مال ہے اور یہ ہماری جانیںہیں جو آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں یَارَسُوْلَ اللّٰہ! اور ہم آپ کی حفاظت کرنے کے قابل ہیں آپ ہمارے ہی پاس ٹھہریں۔بعض لوگ جوش میں آگے بڑھتے اور آپ کی اُونٹنی کی باگ پکڑ لیتے تاکہ آپ کو اپنے گھر میں اُتروا لیں۔مگر آپ ہر ایک شخص کو یہی جواب دیتے تھے کہ میری اُونٹنی کو چھوڑ دو یہ آج خد اتعالیٰ کی طرف سے مأمور ہے یہ وہیں کھڑی ہو گی جہاں خدا تعالیٰ کا منشاء ہو گا۔آخر مدینہ کے ایک سرے پر بنو نجار کے یتیموں کی ایک زمین کے پاس جا کر اُونٹنی ٹھہر گئی۔آپ نے فرمایا خد اتعالیٰ کا یہی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں ٹھہریں۔۲۳۸؎ پھر فرمایا یہ زمین کس کی ہے؟ زمین کچھ یتیموں کی تھی اُن کا ولی آگے بڑھا اور اُس نے کہا کہ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! یہ فلاں فلاں یتیم کی زمین ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے آپ نے فرمایا ہم کسی کا مال مفت نہیں لے سکتے۔آخر اُس کی قیمت مقرر کی گئی اور آپ نے اس جگہ پر مسجد اور اپنے مکانات بنانے کا فیصلہ کیا۔۲۳۹؎ حضرت ابو ایوبؓ انصاری کے مکان پر قیام اِس کے بعد آپ نے فرمایا سب سے قریب گھر کس کا ہے؟ ابو ایوبؓ انصاری آگے بڑھے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! میرا گھر سب سے قریب ہے اور آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔آپ نے فرمایا گھر جائو اور ہمارے لئے کوئی کمرہ تیار کرو۔ابوایوبؓ کا مکان دو منزلہ تھا اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُوپر کی منزل تجویز