دیباچہ تفسیر القرآن — Page 209
نے آواز دی اے قیلہ کی اولاد! (قیلہ مدینہ والوں کی ایک دادی تھی) تم جس کی انتظار میں تھے آگیا ہے۔اِس آواز کے پہنچتے ہی مدینہ کا ہر شخص قبا کی طرف دَوڑ پڑا۔قبا کے باشندے اِس خیال سے کہ خد اکا نبی اُن میں ٹھہرنے کے لئے آیا ہے خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔اِس موقع پر ایک ایسی بات ہوئی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی کے کمال پر دلالت کرتی تھی۔مدینہ کے اکثر لوگ آپ کی شکل سے واقف نہ تھے۔جب قبا سے باہر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھاگتے ہوئے مدینہ سے آپ کی طرف آرہے تھے تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ سادگی سے بیٹھے ہوئے تھے اُن میں سے نا واقف لوگ حضرت ابوبکرؓ کو دیکھ کر جو عمر میں گو چھوٹے تھے مگر اُن کی ڈاڑھی میں کچھ سفید بال آئے ہوئے تھے اور اسی طرح اُن کا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ بہتر تھا یہی سمجھتے تھے کہ ابوبکرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور بڑے ادب سے آپ کی طر ف منہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔حضرت ابوبکرؓ نے جب یہ بات دیکھی تو سمجھ لیا کہ لوگوں کو غلطی لگ رہی ہے۔وہ جھٹ چادر پھیلا کر سورج کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ !آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے میں آپ پر سایہ کرتا ہوں۲۳۶؎ اور اِس لطیف طریق سے اُنہوں نے لوگوں پر اُن کی غلطی کو ظاہر کر دیا۔قبا میں دس دن رہنے کے بعد مدینہ کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے گئے۔جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے مدینہ کے تمام مسلمان کیا مرد کیا عورتیں اور کیا بچے سب گلیوں میں نکلے ہوئے آپ کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔بچے اور عورتیں یہ شعر گا رہے تھے طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوِدَاعِ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا مَادَعَا لِلّٰہِ دَاعِ اَیُّھَا الْمَبْعُوْثُ فِیْنَا جِئْتَ بِالْاَ مْرِ الْمُطَاعِ۲۳۷؎ یعنی چودھویں رات کا چاند ہم پر وداع کے موڑ سے چڑھا ہے اور جب تک خد اکی طرف بلانے والا دنیا میں کوئی موجود رہے ہم پر اس احسان کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے اور اے وہ جس کو خدا نے ہم میں مبعوث کیا ہے تیرے حکم کی پوری طرح اطاعت کی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے تھے وہ مشرقی جہت نہیں