دیباچہ تفسیر القرآن — Page 207
میں اِس ارادہ سے یہاں آیا تھا مگر اب میں نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے اور میں واپس جا رہا ہوں، کیونکہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا جائو، مگر دیکھو کسی کو ہمارے متعلق خبر نہ دینا۔اُس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ چونکہ یہ شخص سچا معلوم ہوتا ہے اِس لئے ضرور ہے کہ ایک دن کامیاب ہو۔اِس خیال کے آنے پر میں نے درخواست کی کہ جب آپ کو غلبہ حاصل ہو گا اُس زمانہ کے لئے مجھے کوئی امن کا پروانہ لکھ دیں۔آپ نے عامر بن فہیرہ حضرت ابوبکر کے خادم کو ارشاد فرمایا کہ اِسے امن کا پروانہ لکھ دیا جائے۔۲۳۴؎ چنانچہ اُنہوں نے امن کا پروانہ لکھ دیا۔جب سراقہ لوٹنے لگا تو معاً اللہ تعالیٰ نے سراقہ کے آئندہ حالات آپؐ پر غیب سے ظاہر فرمادئیے اور اُن کے مطابق آپ نے اُسے فرمایا۔سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہو کر پوچھا، کسریٰ بن ہرمز شہنشاہِ ایران کے؟ آپ نے فرمایا ہاں! ۲۳۵؎ آپ کی یہ پیشگوئی کوئی سولہ سترہ سال کے بعد جا کر لفظ بلفظ پوری ہوئی۔سراقہ مسلمان ہو کر مدینہ آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابوبکرؓ پھر حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے۔اسلام کی بڑھتی ہوئی شان کو دیکھ کر ایرانیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دئیے اور بجائے اسلام کو کچلنے کے خود اسلام کے مقابلہ میں کچلے گئے۔کسریٰ کا دارالامارۃ اسلامی فوجوں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال ہوا اور ایران کے خزانے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔جو مال اُس ایرانی حکومت کا اسلامی فوجوں کے قبضہ میں آیا اُس میں وہ کڑے بھی تھے جو کسریٰ ایرانی دستور کے مطابق تخت پر بیٹھتے وقت پہنا کرتا تھا۔سراقہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے اِس واقعہ کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے وقت اُسے پیش آیا تھا مسلمانوں کو نہایت فخر کے ساتھ سنایا کرتا تھا اور مسلمان اِس بات سے آگاہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے مخاطب کر کے فرمایا تھا، سراقہ! اُس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے کنگن ہوں گے۔حضرت عمرؓ کے سامنے جب اموالِ غنیمت لا کر رکھے گئے اور اُن میں اُنہو ں نے کسریٰ کے کنگن دیکھے تو سب نقشہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔وہ کمزوری اور ضعف کا وقت جب خد اکے رسول کو اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ آنا پڑا تھا، وہ سراقہ اور