دیباچہ تفسیر القرآن — Page 206
مقدس شہر پر جس میں آپ پیدا ہوئے، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کے آبائواجداد رہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظرڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا اے مکہ کی بستی! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اُس وقت حضرت ابوبکرؓ نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا اِن لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔۲۳۳؎ سراقہ کا تعاقب اور اُس کے متعلق آنحضرت ﷺکی ایک پیشگوئی جب مکہ والے آپ کی تلاش میں ناکا م رہے تو اُنہوں نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابوبکرؓ کو زندہ یا مُردہ واپس لے آئے گا اُس کو سَو(۱۰۰) اُونٹنی انعام دی جائے گی اوراس اعلان کی خبر مکہ کے اِردگرد کے قبائل کو بجھوا دی گئی۔چنانچہ سراقہ بن مالک ایک بدوی رئیس اس انعام کے لالچ میں آپ کے پیچھے روانہ ہوا۔تلاش کرتے کرتے اُس نے مدینہ کی سڑک پر آپ کو جالیا۔جب اُس نے دو اُونٹنیوں اور ان کے سواروں کو دیکھا اور سمجھ لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی ہیں تو اُس نے اپنا گھوڑا اُن کے پیچھے دَوڑا دیا۔مگر راستہ میں گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور سراقہ گر گیا۔سراقہ بعد میں مسلمان ہو گیا تھا وہ اپنا واقعہ خود اس طرح بیان کرتا ہے کہ جب میں گھوڑے سے گرا تو میں نے عربوں کے دستور کے مطابق اپنے تیروں سے فال نکالی اور فال بُری نکلی۔مگرانعام کے لالچ کی وجہ سے میں پھر گھوڑے پر سوار ہو کر پیچھے دوڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وقار کے ساتھ اپنی اُونٹنی پر سوار چلے جا رہے تھے۔اُنہوں نے مڑ کر مجھے نہیں دیکھا ، لیکن ابوبکرؓ (اِس ڈر سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گزند نہ پہنچے) بار بار منہ پھیر کر مجھے دیکھتے تھے۔جب دوسری دفعہ میں اُن کے قریب پہنچا تو پھر میرے گھوڑے نے زور سے ٹھوکر کھائی اور میں گر گیا۔اِس پر پھر میں نے اپنے تیروں سے فال لی اور فال خراب نکلی۔میں نے دیکھا کہ ریت میں گھوڑے کے پائوں اتنے دھنس گئے تھے کہ اُن کا نکالنا مشکل ہو رہا تھا۔تب میں نے سمجھا کہ یہ لوگ خد اکی حفاظت میں ہیں اور میں نے اُنہیں آواز دی کہ ٹھہرو اور میری بات سنو! جب وہ لوگ میرے پاس آئے تومیں نے اُنہیں بتایا کہ