دیباچہ تفسیر القرآن — Page 201
اُن کے دعویٰ میں شبہات پیدا ہو جانے چاہئیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اعلان کر رہے تھے کہ ۲۲۶؎ اے مکہ والو! جن خیالات میں تم پڑے ہوئے ہو وہ درست نہیں۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں اُن چیزوں کی جو تمہیں نظر آرہی ہیں اور اُن کی بھی جو تمہاری نظروں سے ابھی پوشیدہ ہیں کہ یہ قرآن ایک معزز رسول کی زبان سے تم کو سنایا جا رہا ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تمہارے دل میں ایمان کم ہی پید ا ہوتا ہے۔یہ کسی کاہن کی تک بندی نہیں ہے مگر افسوس تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔یہ سب جہانوں کے پیدا کرنے والے خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے اور ہم جو سب جہانوں کے رب ہیں تم سے کہتے ہیں کہ اگر یہ ایک آیت بھی جھوٹی بنا کر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور پھر اُس کی رگِ جان کو کاٹ دیتے اور اگر تم سب لوگ مل کر بھی اُس کو بچانا چاہتے تو تم اُس کو نہ بچا سکتے۔مگر یہ قرآن تو خدا سے ڈرنے والوں کے لئے ایک نصیحت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں اِس قرآن کو جھٹلانے والے بھی موجود ہیں مگر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کی تعلیم اس منکروں کے دلوں میں حسرتیں پیدا کر رہی ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ کاش! یہ تعلیم ہمارے پاس ہوتی۔اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو باتیں اِس قرآن میں بتائی گئی ہیں وہ لفظاً لفظاً پوری ہو کر رہیں گی۔پس اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اِن لوگوں کی مخالفتوں کی پرواہ نہ کر اور اپنے عظیم الشان رب کے نام کی بزرگی بیان کرتا چلا جا۔آخر تیسرا حج بھی آپہنچا اورمدینہ کے حاجیوں کا قافلہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پر مشتمل مکہ میں وار د ہوا۔مکہ والوں کی مخالفت کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ ملنے کی خواہش کی۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہن اِدھر منتقل ہو چکا