دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 9

ایک کنعانی عورت وہاں کی سرزمین سے نکل کر اسے پکارتی ہوئی چلی آئی کہ اے خداوند دائود کے بیٹے! مجھ پر رحم کر کہ میری بیٹی ایک دیو کے غلبہ سے بے حال ہے۔اس نے کچھ جواب نہ دیا۔تب اس کے شاگردوں نے پا س آکر اس کی منت کی کہ اسے رخصت کر، کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چلاتی ہے۔اس نے جواب میں کہا میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سِوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔پھر وہ آئی اور سجدہ کر کے کہا۔اے خدا وند! میری مدد کر۔اس نے جواب دیا کہ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیویں۔‘‘ ۸؎ اِسی طرح حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کو یہ تعلیم دی کہ:۔’’ وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو۔ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کریں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں۔‘‘۹؎ ویدوں کے ماننے والوں میں وید اس حد تک ہندوستان کی اونچی ذاتوں کے ساتھ مخصوص کر دیے گئے تھے کہ گوتم جو تمام ہندو قوم اور سناتن دھرم کا تسلیم شدہ شارح قانون ہے لکھتاہے کہ : ’’ شودر اگر وید کو سن لے تو راجہ سیسے اور لاکھ سے اس کے کان بھردے۔وید منتروں کا اچارن (تلاوت) کرنے پر اُس کی زبان کٹوا دے۔اور اگر وید کوپڑھ لے تو اس کا جسم ہی کا ٹ دے۔‘‘ ۱۰؎ اسی طرح خود وید میں غیر قوموں کے لئے جو تعلیم موجود ہے وہ نہایت ہی شدید اور سخت ہے۔رگوید میں ویدک دھرم کے مخالفین کو کتا قرار دیتے ہوئے یہ بددعا کی گئی ہے کہ: ’’ اے آگ دیوتا! تُو ان بُرے کتوں ( مخالفین) کو دُور لے جا کر باندھ دے‘‘۔۱۱؎ اتھرو وید میں بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کوجکڑ کر اُن کے گھروں کو لُوٹ لینا چاہئے۔چنانچہ لکھا ہے کہ:۔’’ اے ویدک دھرمی لوگو تم چیتے جیسے بن کر اپنے مخالفین کو باندھ لو اور پھر ان کے