دیباچہ تفسیر القرآن — Page 8
میرے نزدیک ان چاروں سوالوں کا جواب ہی اس سوال کو حل کر دے گا کہ قرآن کریم سے پہلے مختلف کتب اور مختلف مذاہب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیا ضرورت پیش آئی تھی۔پس میںان چاروں سوالوں کو باری باری لے کر جواب دیتا ہوں۔پہلا سوال اور اس کا جواب پہلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اختلافِ مذاہب خود اس بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئے؟ ا س کا جواب یہ ہے کہ مذہب اوّل انسان کو خدا تعالیٰ سے ملانے کے لئے آتا ہے اور دوسری غرض ا س کی شفقت علیٰ خلق اللہ کی تکمیل ہوتی ہے۔اسلام کے سِوا باقی سب مذاہب قومی مذہب تھے یونیورسل نہ تھے اسلام سے پہلے جتنے بھی مذاہب دنیا میں موجود تھے وہ سب ایک دوسرے سے مختلف بلکہ ایک دوسرے کو ردّ کرنے والے تھے۔بائبل دنیا کے خدا کو نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے خدا کو پیش کرتی تھی، چنانچہ اس میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ: ’’خد اوند بنی اسرائیل کا خد امبارک ہے جس نے تجھے بھیجا ہے کہ تُو آج کے دن میرا استقبال کرے۔‘‘ ۳؎ ’’ خداوند بنی اسرائیل کا خد امبارک ہے جس نے آج کے دن ایک آدمی ٹھہرایا کہ میری ہی آنکھوں کے دیکھتے ہوئے تخت پر بیٹھے۔‘‘۴؎ ’’ خداوند اسرائیل کا خداوندا بدالا باد مبارک ہو۔‘‘۵؎ ’’ خدا وند اسرائیل کا خدا مبارک ہو جس نے اپنے ہاتھ سے وہ کلام کہ جس کو اپنے منہ سے میرے باپ دائود سے کہا تھا پورا کیا۔‘‘ ۶؎ ’’ خداوند خدا اسرائیل کا خدا جو اکیلا ہے عجائب کام کرتا ہے۔‘‘ ۷؎ حضرت مسیح ؑبھی اپنے آپ کو صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث قرار دیتے تھے اور دوسری قوموں کے افراد کو دھتکار دیتے تھے۔چنانچہ انجیل میں لکھا ہے:۔’’ تب یسوع وہاں سے روانہ ہو کے صوراورصیدا کی اطراف میں گیا اور دیکھو