دیباچہ تفسیر القرآن — Page 150
بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کیا‘‘۔اِن تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الیاس سے مراد اناجیل کی تعلیم کے مطابق یوحنا تھے۔مسیح کے متعلق تو فیصلہ ہی ہے کہ عہد نامہ جدید والا نبی یسوع ابن مریم ہی مسیح کے نام سے خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ظاہر ہوا۔اب رہ گیا ’’ وہ نبی‘‘ نہ یوحنا وہ نبی ہو سکتا ہے نہ مسیح وہ نبی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ نبی ایک علیحدہ وجود ہے۔پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ نبی مسیح کے زمانہ تک نہیں آیا تھا۔پس معلوم ہوا کہ وہ موعود جسے بائبل ’’وہ نبی‘‘ کے نام سے یاد کرتی تھی اناجیل کی گواہی کے مطابق مسیح ناصری کے بعد نازل ہونے والا تھا اور مسیح ناصری کے بعد سوائے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی شخص نہیں جس نے ’’ وہ نبی‘‘ ہونے کا دعویٰ کیاہو اور جس پر وہ تمام علامتیں صادق آتی ہوں جو ’’ وہ نبی‘‘ میں پائی جانے والی تھیں جیسا کہ اُوپر ثابت کیا جاچکا ہے۔(د) اِسی طرح لوقا میں لکھا ہے:۔’’ اور دیکھو میں اپنے باپ کے اُس موعود کو تم پر بھیجتا ہوں لیکن جب تک عالم بالا کی قوت سے ملبس نہ ہوں یروشلم میں ٹھہرو‘‘۔۱۷۵؎ اِس پیشگوئی سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے بعد ایک اَور موعود ظاہر ہونے والا تھا مگر وہ کون موعود ہے؟ سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آج تک کوئی شخص بھی تو اس پیشگوئی کے پورا کرنے کا مدعی نہیں ہوا۔(ھ) یوحنا میں لکھا ہے:۔’’ لیکن وہ تسلی دینے والا جو روحِ قدس ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھلاوے گا اور سب باتیں جو کچھ کہ میں نے تمہیں کہی ہیں تمہیں یاد دلا دے گا‘‘۔۱۷۶؎ یہ پیشگوئی بھی سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی پر صادق نہیں آتی۔بیشک اِس میں یہ لکھا ہے کہ باپ میرے نام سے اُسے بھیجے گا۔لیکن نام سے بھیجنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ میری تصدیق کرے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تصدیق