دیباچہ تفسیر القرآن — Page 151
کی اور آپ کو راست باز قرار دیا اور اعلان فرمایا کہ جو لوگ آپ کو لعنتی کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔مسیح خدا کا برگزیدہ اور اس کا رسول ہے۔اِس جگہ پر یہ صاف لکھا گیا ہے کہ ’’ وہی تمہیں سب چیزیں سکھلا وے گا‘‘ اور استثناء باب ۱۸ کی پیشگوئی میں بھی یہی الفاظ ہیں کہ’’ جو کچھ میں اُسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا‘‘۱۷۷؎ پس اس پیشگوئی میں استثناء باب۱۸ والے نبی ہی کی خبر دی گئی ہے اور یہ پیشگوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی صادق آتی ہے جیسا کہ اُوپر لکھا جاچکا ہے اور آپ ہی کا وجود دنیا کو تسلی دینے والا تھا۔(و) یوحنا باب ۱۶ میں لکھا ہے:۔’’ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جائوں تو تسلی دینے والا تم پاس نہ آئے گا۔پر اگر میں جائوں تو میں اُسے تم پاس بھیج دوں گا اور وہ آن کر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔گناہ سے اِس لئے کہ وے مجھ پر ایمان نہیں لائے۔راستی سے اِس لئے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت سے اِس لئے کہ اِس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔میری اَور بہت سی باتیں ہیںکہ میں تمہیں کہوں پر اب تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی اِ س لئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی۔لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔وہ میری بزرگی کرے گی اِ س لئے کہ وہ میری چیزوں سے پاوے گی اور تمہیں دکھا وے گی‘‘۔۱۷۸؎ اِن آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح کے اُٹھ جانے یعنی مسیح کی وفات کے بعد وہ تسلی دینے والا موعود ظاہر ہو گا۔وہ دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔گناہ سے اِس طرح کہ وہ یہود کو ملامت کرے گا کہ وہ کیوں مسیح پر ایمان نہیں لائے۔راستی سے اِ س طرح کہ وہ مسیح کی زندگی کا عقیدہ جو غلط طور پر عیسائیوں میں رائج ہو گیا تھا اِس کو دور کرے گا اور دنیا پر ثابت کرے گا کہ دنیا پھر اِس مسیح کو دوبارہ نہیں دیکھے گی جو بنی اسرائیل میں نازل ہوا تھا۔عدالت سے اِس طرح کہ اُس کے ذریعہ شیطان کو کچل دیا جائے گا۔