دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 137

حکومت تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ختم ہو گئی اور مسلمانوں کا قبضہ اُس ملک پر ہو گیا۔چنانچہ تیرہ سَو سال سے مسلمان اس ملک پر قابض ہیں۔کیا تین سَو سال کی حکومت اَبد کہلائے گی یا تیرہ سَو سال والی حکومت اَبد کہلائے گی؟ یہ صاف بات ہے کہ تیرہ سَو سال والی حکومت ہی اَبد کہلائے گی۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ اِس وقت انگریزی حکومت جو عیسائی حکومت ہے اِس ملک پر قابض ہے۔لیکن خدا کی قدرت ہے کہ انگریزوں کو اس ملک پر بادشاہ ہونے کے لحاظ سے حکومت حاصل نہیں بلکہ مندیٹری پاور (MANDATORY POWER) ہونے کے لحاظ سے تصرف حاصل ہے اور عارضی طور پر تھوڑی مدت کے لئے کسی کا درمیان میں آجانا یہ پیشگوئی کے خلاف ہوتا بھی نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت کیسی عدالت اور انصاف والی تھی ،اِس کا ثبوت اِس بات سے ملتا ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عارضی طور پر اسلامی لشکر رومی لشکر کی کثرت اور اس کے دبائو کی وجہ سے پیچھے ہٹا اور مسلمانوں نے بیت المقدس اور اُس کے ار د گرد کے علاقوں والوں کو بُلا کر اُن کے ٹیکس یہ کہتے ہوئے واپس کئے کہ ٹیکس امن اور حفاظت کی غرض سے ہوتے ہیں چونکہ ہم لوگ اس ملک کو اب چھوڑ رہے ہیں اور ہم آپ کو نہ امن د ے سکتے ہیں نہ آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں اِس لئے آپ کا روپیہ آپ کو واپس کیا جاتا ہے ہمارا اِس روپیہ پر کوئی حق نہیں تو تاریخیں بتاتی ہیں کہ اِس بات کو سن کر یروشلم کے باشندے ایسے متأثر ہوئے کہ باوجود اِس کے کہ اُن کے ہم مذہبوں کی فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں اور اُن کے مذہب کے مخالف لوگ اُن کے ملک کو خالی کر رہے تھے یروشلم کے باشندے روتے ہوئے شہر سے باہر اسلامی لشکر کو چھوڑنے کے لئے آئے اور ساتھ دعائیں کرتے جا تے تھے کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو جلد واپس لائے کہ ہم نے آپ جیسا انصاف اِس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا اِس بات کا کہ’’ وہ دائود کے تخت پر اور اُس کی مملکت پر آج سے لے کر اَبد تک بندوبست کرے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشے گا‘‘۔(ھ) اِسی طرح لکھا ہے:۔’’ اور خد اوند اپنے تئیں مصریوں پر ظاہر کرے گاا ورا ُس دن مصری خدا وند کو