دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 103

رکھنے والا ہوتا ہے محض ایک مصلح نہیں ہوتااس لئے اُسے حکم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ساری تعلیم لوگوں کے سامنے بیان کرے کیونکہ شریعت کے بغیر قوم کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔مگر جو غیر تشریعی نبی ہوتا ہے وہ چونکہ صرف پہلی کتاب کا شارح ہوتا ہے اُس کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ساری وحی لوگوں کو سنائے۔ہو سکتا ہے کہ بعض باتیں اُس کے ذاتی علم کے طور پر اُسے کہی گئی ہوں لیکن ضروری نہ ہو کہ وہ اپنی قوم سے اُن کا ذکر کرے۔یہ بھی اِن آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ اِس پیشگوئی کا موعود نبی اپنی تعلیم کو خد اتعالیٰ کا نام لے کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا اور جو لوگ اُس کی تعلیم کونہ سنیں گے اُن کو سزا دی جائے گی اور وہ خدا کے عذاب کے نیچے آئیں گے۔یہ بھی اِس پیشگوئی میںبتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اِس پیشگوئی سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر اس پیشگوئی کا مستحق ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے گا تو ایسا شخص قتل کر دیا جائے گا۔ا ب پیشگوئی کے اِن تمام اجزاء کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اِس پیشگوئی کو پورا کرنے والا نبی دنیا میں کوئی پید ا ہی نہیں ہوا۔درمیانی انبیاء کا تو ذکر جانے دو، اُن کی تونہ کوئی اُمت موجود ہے نہ کوئی قوم پائی جاتی ہے۔ایک عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جن کے ماننے والے دنیا میں پائے جاتے ہیں اور جو اُنہیں آخری مصلح قرار دے کر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مگر اِس پیشگوئی کو سامنے رکھ کر دیکھو کیا اِس پیشگوئی کی شرائط حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر پوری اُترتی ہیں؟ اوّل: اِس پیشگوئی سے پتہ لگتا ہے کہ وہ صاحبِ شریعت نبی ہو گا۔کیا عیسیٰ علیہ السلام کوئی شریعت لائے؟ عیسیٰ علیہ السلام نے تو یہ کہا ہے کہ: ’’ یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے آیا۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو‘‘۔۱۰۷؎ پھر اُن کے حواریوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ:۔’’ شریعت کو ایمان سے کچھ نسبت نہیں۔مسیح نے ہمیں مول لے کر شریعت کی