دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 104

لعنت سے چھڑایا‘‘۔۱۰۸؎ گویا مسیح خود کسی شریعت کے لانے کے مدعی نہیں اور اُن کے حواری شریعت کو ہی لعنت قرار دیتے ہیں۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضر ت مسیح اور اُن کی قوم اِس پیشگوئی کی مستحق ہو؟ (۲) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ آنے والا بنی اسرائیل کے بھائیوں میںسے ہوگا لیکن مسیح تو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھا بلکہ خود بنی اسرائیل میںسے تھا۔بعض عیسائی صاحبان ایسے موقع پر کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ اس کا کوئی با پ نہیںتھا اِس لئے وہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے کہلا سکتا ہے۔لیکن یہ دلیل ہرگزمعقول نہیںکیونکہ بائبل کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ بھائی بہت ہوں گے اور اُن بہت سے بھائیوں کی نسل میںسے وہ موعود نے ظاہر ہونا تھا۔کیا عیسیٰ علیہ السلام کی قسم کے لوگ بھی بہت سے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام پر یہ پیشگوئی کیونکر چسپاں ہو سکتی ہے؟ علاوہ ازیں بائبل میں تو مسیح کی نسبت لکھا ہے کہ وہ دائود کی نسل میں سے ہوگا۱۰۹؎ اگر بن باپ ہونے کی وجہ سے حضر ت مسیح کو بنی اسرائیل میں سے خارج کر دیا جائے تو پھر وہ دائود کی نسل میں بھی نہیں رہ سکتے اور اس پیشگوئی سے اُنہیں جواب مل جاتا ہے۔(۳) اِس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔لیکن انجیل میں تو خدا کا کلام ہمیں کہیں نظر ہی نہیں آتا۔یا تو اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوانح ہیں یا اُن کے بعض لیکچر اور یا پھر حواریوں کی باتیں۔(۴) اِس پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ موعود ایک نبی ہو گا۔مگر مسیح کے متعلق تو مسیحی قوم یہ کہتی ہے کہ وہ خد اکا بیٹا تھا نبی نہیں تھا۔پس جب مسیح نبی ہی نہ تھے تو وہ اس پیشگوئی کے پورا کرنے والے کس طرح ہو سکتے ہیں؟ (۵) اِ س پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ خدا کا نام لے کر اپنا الہام لوگوں کو سنائے گا مگر اناجیل میں تو کوئی ایک فقرہ بھی ہمیں نہیں ملتا جس میںمسیح نے یہ کہا ہو کہ خدا نے مجھے یہ بات لوگوں کو پہنچانے کا حکم دیا ہے۔(۶) اِس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے۔’’ جو کچھ میں اُسے فرمائوں گا وہ سب اُن سے کہے گا اور ساری