دیباچہ تفسیر القرآن — Page 94
۔علمِ ہیئت کے لحاظ سے یہ بات کیسی ہی عجیب کیوں نہ ہو میں اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔میں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اِس حکایت کی تفصیلات کے متعلق بھی ویدوں میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔کرشن یجر وید تیتری سنگتا میں لکھا ہے:۔’’ سورج پہلے زمین پر تھا۔دیوتا اپنی پیٹھوں پر اُسے رکھ کر اُوپر جنت میں لے گئے اور وہیں رکھ دیا‘‘۔کرشن یجر وید میں لکھا ہے:۔’’ سورج کو صرف ورن دیوتا ہی زمین سے اُٹھا کر اوپر جنت میں لے گیا تھا‘‘۔لیکن رگوید منڈل نمبر ۱۰ سُوکت ۱۵۶ منتر ۴ میں لکھا ہے:۔’’ اکیلے آگ دیوتا نے سورج کو اوپر جنت میں لے جا کررکھا تھا‘‘ اور رگو ید منڈل نمبر ۱۰ منتر ۳ میں لکھا ہے:۔’’ سورج کو انگرارشی کی اولاد نے اوپر لے جا کر جنت میں رکھا تھا‘‘۔اتھرو وید کانڈ نمبر ۱۳ سُوکت نمبر۲ منتر نمبر ۲ ۱ میں لکھا ہے:۔’’ اے سورج! تجھے اوپر جنت میں لے جا کر صرف اکیلے اتری رشی نے اِس لئے رکھا تھا تاکہ تو مہینوں کو بنایا کرے‘‘۔شکل یجر وید ادھیائے نمبر ۴ منتر ۳۱ میں لکھا ہے:۔’’ سورج کو اوپر لے جا کر اکیلے ورن دیوتا نے ہی رکھا تھا‘‘۔قطع نظر اِس کے کہ سورج کو زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھنے کا عقیدہ کیسا مضحکہ خیز ہے اور بتاتا ہے کہ پرانے زمانہ کے ہندوئوں میں یہ خیال تھا کہ سورج ایک بہت چھوٹی سی چیز ہے اور زمین کے کسی گوشہ میں رکھی جا سکتی ہے۔یہ بات غور طلب ہے کہ اس مضحکہ انگیز خیال کے مطابق بھی اتنی متضاد روایتیں ہیں کہ وہ تضاد خود اپنی ذات میں مضحکہ انگیز ہو جاتا ہے۔صرف رگوید کی مختلف فصلوں میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ایک فصل میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ آگ دیوتا نے سورج کو اُٹھا کر آسمان پر رکھا لیکن اس کتاب کی دوسری فصل میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نہیں بلکہ اِندر دیوتا نے ایسا کیا۔اور پھر اسی کتاب کے ایک اور منتر میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ کام اِن دونوں