دیباچہ تفسیر القرآن — Page 95
ہی نے نہیں کیا تھا بلکہ انگرارشی کی اولاد نے یہ کام کیا تھا۔اسی طرح یجر وید میں ایک جگہ تو یہ کہا ہے کہ سورج کوتمام دیوتا اپنی پیٹھ پر اُٹھا کر لے گئے لیکن دوسری جگہ یہ لکھا ہے کہ سورج کو اکیلے ورن دیوتا نے زمین سے اُٹھا کر آسمان پر رکھا۔اتھرو وید اِن سب سے نرالی حکایت بیان کرتا ہے اور اتری رشی کو اس غیر معمولی شان کے کام کے لئے مخصوص کرتا ہے۔۳۔زمین و آسمان کی پیدائش کے متعلق بھی ویدوں نے بعض حقائق بیان کئے ہیں۔لیکن وہ حقائق بھی ایک دوسرے سے ایسے ہی مختلف ہیں جیسا کہ جنوں اور پریوں کی کہانیاں آپس میں مختلف ہوتی ہیں۔سام وید پورد آرچک میں لکھا ہے:۔’’ زمین وآسمان کو اکیلے سوم دیوتا نے پیدا کیا تھا‘‘۔لیکن رگوید منڈل نمبر۸ سُوکت ۲۶ منتر ۴ میں لکھا ہے:۔’’ زمین و آسمان کو سوم رس پینے والے اکیلے اِندر دیوتا نے ہی پیدا کیا تھا‘‘۔مگر اسی رگوید کے منڈل نمبر ۲ سُوکت ۴۰ منتر ۱ میں لکھا ہے:۔’’ زمین وآسمان کو پوشا دیوتا اور سوم دیوتا دونوں نے مل کر پید اکیا تھا‘‘۔مگریجر وید کہتا ہے کہ:۔’’ زمین و آسمان کو اکیلے برہما نے پیدا کیاتھا‘‘۔منو سمرتی دشت پتھ برہمن میں لکھا ہے:۔’’ زمین و آسمان کو اکیلے پرجا پتی نے ہی پیدا کیا تھا‘‘۔اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ منو سمرتی وید نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہندو قوم اِس کو ویدوں کی صحیح تفسیر قرار دیتی ہے اصل ویدوں میں بھی زمین وآسمان کی پیدائش کے متعلق کچھ کم اختلاف نہیں تھا کہ منوجی نے اِس اختلاف کو اَور بھی اُبھار دیا۔سام وید سوم دیوتا کو زمین و آسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے لیکن رگوید ایک جگہ اِندر دیوتا کو اور دوسری جگہ پوشا دیوتا اور سوم دیوتا کو زمین وآسمان کی پیدائش کا موجب قرار دیتا ہے۔مگر منوجی نے اِن تمام ویدوں کی تشریح کرتے ہوئے سوم اور اِندر اور پوشا اور برہما سب کو پیدائش کائنات سے جواب دے دیا