دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 34

غرض حضرت عزرا اور پانچ زود نویس چالیس روز تک دوسروں سے الگ تھلگ جا بیٹھے اور الہامی تائید سے انہوں نے چالیس دن میں دوسَو چار کتابیں لکھیں۔چنانچہ اس باب کی چوالیسویں آیت میں لکھا ہے:۔``44۔In forty days they wrote two hundred and four ۵۲؎ books۔``۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ:۔(الف) عزرا نبی کے وقت میں جو قریباً چارسَو سال قبل مسیح تھا تورات اور دیگر انبیاء کی کتابیں جل گئی تھیں۔(ب) ان کا نسخہ اُس وقت موجود نہ تھا۔(ج) عزرا نے دوبارہ وہ کتابیں لکھیں۔گویا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ الہامی تھیں مگر مراد الہامی تائید ہے۔یہ مراد نہیں کہ ان کا ایک ایک نقطہ الہام تھا۔کیونکہ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ خود عزرا نے بعض حصوں کے مشکوک ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا فیصلہ ایلیا پر اُٹھا رکھا تھا۔پس موجودہ تورات وہ تورات نہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی بلکہ وہ تورات ہے جو عزرا نے اپنے حافظہ سے لکھی تھی اور جس کے بعض حصوں کے متعلق خود عزرا کو بھی شبہ تھا بلکہ میں توکہتا ہوں کہ یوںسمجھنا چاہئے کہ وہ یہ تورات بھی نہیں ہے جوعزرا نے لکھی تھی کیونکہ عزرا نے ۲۰۴ کتابیں لکھی تھیں مگر ۲۰۴ کتابیں موجودہ بائبل میں ہمیں نہیں ملتیں۔عزرا کے حافظہ کے متعلق خود مسیحی مصنفوں کو بھی شبہات ہیں۔چنانچہ ریورنڈ آدم کلارک بائبل کے مشہور مسیحی مفسر اپنی تفسیر مطبوعہ ۱۸۹۱ء کے صفحہ ۱۶۸۱ پر ا۔تواریخ باب ۴ آیت ۷ کے ماتحت لکھتے ہیں: ’’ اِس جگہ غلطی سے عزرا نے بیٹے کی جگہ پوتا لکھ دیا ہے۔ایسے اختلافوں میں تطبیق بے فائدہ ہے‘‘۔علمائے یہود کہتے ہیں کہ عزرا کو معلوم نہ تھا کہ بعض بعض کے بیٹے ہیں یا پوتے۔جب