دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 407

سے آدمیوں کو پورے طور پر قرآن کریم یاد کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔چند سال میں مسلمانوں کی جماعت بڑھنی شروع ہوئی اور قرآن کریم کی حفاظت زیادہ آسان ہوگئی۔تب قرآن کریم کا نزول بھی پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے ہونے لگا۔آخری زمانہ اِسلام میں تو مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی اُوپر نکل گئی۔اُس وقت قرآن کریم کا یاد کرنا بہت زیادہ آسان ہو گیا۔تب قرآن کریم اور بھی زیادہ جلدی سے اُترنے لگا۔اِس الٰہی تدبیر سے قرآن کریم کی حفاظت اور یقینی ہو گئی۔یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم کے بد ترین دشمنوں میں سے بھی کوئی ایسا نہیں جو حضرت عثمانؓ کے زمانہ سے لے کر آج تک ساڑھے تیرہ سَو سال کے متعلق شبہ رکھتا ہو کہ اِس عرصہ میں قرآن کریم میں کوئی تبدیلی ہو گئی ہوگی۔کیونکہ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں قرآن کریم کی سات کاپیاں کر کے سات ملکوں میں بھیج دی گئی تھیں اور ہر ملک کے لوگ اُن کاپیوں سے نقل کر کے اپنے لئے قرآن کریم کے نسخے تیار کرتے تھے اور لاکھوں آد می قرآن کریم کو حفظ کرتے تھے۔پس جو لوگ قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا کرتے ہیں وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر حضرت عثمانؓ کے زمانہ تک کے متعلق اعتراض کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حصہ قرآن کا نازل ہوتا تھا آپ اُس کو حفظ کر لیتے تھے اور ہمیشہ قرآن کریم کو دُہراتے رہتے تھے اِس طرح آپ ساری وحی کے کامل حافظ تھے مگر اِس کے علاوہ حفاظت قرآن کے مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کئے گئے تھے۔حفاظت قرآن کے ذرائع (۱) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو وحی نازل ہوتی تھی وہ اُسی وقت لکھوا دی جاتی تھی۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن کاتبوں کو قرآن کریم لکھواتے تھے اُن میں سے مندرجہ ذیل پندرہ نام تاریخ سے ثابت ہیں:۔زید بن ثابتؓ۔ابی بن کعبؓ۔عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ۔زبیر بن العوامؓ۔خالد بن سعید بن العاصؓ۔ابا ن بن سعید العاصؓ۔حنظلہ بن الربیع الاسدیؓ۔معیقیب بن ابی فاطمہؓ۔عبداللہ بن ارقم الزہری۔شرجیل بن حسنہ۔عبداللہ بن رواحہؓ۔حضرت ابوبکرؓ۔حضرت عمرؓ