دیباچہ تفسیر القرآن — Page 406
جمع القرآن میں تمہید کے شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ قرآن کریم سے پہلے کی کوئی الہامی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں بلکہ پہلی تما م کتب میں اتنا تصرف ہو چکاہے کہ یقین کے ساتھ اُن پر عمل کرنا ایک سچے طلب گار کے لئے ناممکن ہو گیا ہے۔اِس کے برخلاف قرآن کریم جوں کا توں لفظاً لفظاً اُسی طرح محفوظ ہے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔قرآن کریم رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت کے ابتداء سے نازل ہونا شروع ہوا۔پہلا الہام قرآن کریم کی چندآیات کا غارِ حرا میں ہوا اِس کے بعد رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن کریم نازل ہوتا چلا گیا۔گویا کل عرصہ نزول 23سال ہے۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ شروع میں وحی تھوڑی تھوڑی کر کے نازل ہوتی تھی پھر نزول کی رفتار بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں پے درپے اور کثرت سے وحی نازل ہوئی۔اِس کے علاوہ اَور حکمتوں کے یہ حکمت بھی تھی کہ اِسلام جو مسائل دنیا میں پیش کر رہا تھا وہ بالکل نئے تھے۔ابتداء میں اُن کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل تھا اِس لئے قرآن کریم ابتداء میں تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔جب لوگوں کے ذہن میں اِسلام کے اُصول رچ گئے اور قرآنی مضامین کا سمجھنا اُن کے لئے آسان ہو گیا تو پھر قرآن کریم کا نزول بھی تیز ہو گیا اور وحی جلدی جلدی نازل ہونے لگی اور یہ اِس لئے کیا گیا تا سب کے سب مسلمان قرآن کریم کے مضامین کے پوری طرح حافظ ہو جائیں۔دوسری وجہ اِس کی یہ تھی کہ جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا اُس وقت آپ کے ماننے والے بہت تھوڑے تھے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ قرآن کریم محفوظ رہے اور اِس کے متعلق کسی قسم کا شبہ پید انہ ہو اِس لئے شروع میں قرآن کریم تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔ایسی آہستگی کے ساتھ کہ بعض دفعہ چند آیات نازل ہونے کے بعد کئی مہینے گزر جاتے تھے اور پھر جا کر چند اور نئی آیات نازل ہوتی تھیں۔اِسی طرح اِن تھوڑے