دیباچہ تفسیر القرآن — Page 28
سٰی ؑدنیا میں آئے تھے بلکہ اُس کے صدیوں بعد ایسا ہوا۔موسوی تعلیم ایک بچے کا کوٹ تھا جو جوان ہو جانے کی صورت میں بنی اسرائیل کے جسم پر درست نہیں آسکتا تھا۔مسیحؑ نے ان مضحکہ خیز شکلوں کود یکھا جو تنو مند جوانوں کی شکل میں بچوں کے چھوٹے چھوٹے فراک پہنے پھر رہے تھے اور مسیحؑ کی فطرت نے اس سے بغاوت کی! نہیں بلکہ مسیح کے دل میں خدا کی آواز گونجی کہ۔دیکھو یہ لوگ اُس حالت سے آگے نکل چکے ہیں جس حالت میںموسوی تعلیم کا وہ نقشہ ان کے لئے کافی ہو سکتا تھا جوبنی اسرائیل کے علماء نے موسٰی ؑ کے زمانہ میں کھینچا تھا۔اب ان کے لئے ایک نئے کوٹ کی ضرورت ہے مگر اس نے جو علاج ان کے لئے تجویز کیا یا زیادہ درست یہ ہے کہ جو علاج صدیوں بعد کے عیسائیوں نے مسیح کے منہ سے بیان کیا یہ تھا کہ شریعت لعنت ہے۔وہ کھانا جو انسان معدہ کی طاقت کو نظر انداز کرکے کھاتا ہے یقینا ایک لعنت ہوتا ہے۔مگر اس قول سے بھی زیادہ اور کوئی احمقانہ قول نہیں کہ کھانا لعنت ہے۔بچے کا کوٹ بڑے آدمی کے جسم پر یقینا مضحکہ انگیز ہوتا ہے مگر بڑے کا کوٹ بچے کے جسم پر بھی تو مضحکہ انگیز ہوتا ہے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بچے کا کوٹ بڑے انسان کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیںکہ بڑے آدمی کا کوٹ بچے کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے مگر کوٹ کو مضحکہ انگیز تو کوئی بیوقوف ہی کہے گا۔پس میرے نزدیک تو مسیحؑ کی طرف اِس قول کو منسوب کرنا ظلم ہے۔یقینا مسیحؑ نے یوں کہا ہو گا کہ موسوی تعلیم کی موجودہ تشریح آجکل کے زمانہ کے لوگوں کے لئے لعنت ہے۔اگر اس نے ایسا کہا تو بالکل سچ کہا۔مگر مسیحؑ کے اَتباع نے اس فاضلانہ قول کو ایک احمقانہ شکل دے دی۔مگر بہرحال خواہ مسیح نے وہ کہا جو میں سمجھتا ہوں کہ اُس نے کہا تھا اور خواہ وہ کہا جو عیسائیوں کے علمائے سابق نے غلطی سے سمجھا کہ اُس نے یہ کہا تھا۔بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ انسانی دماغ موسٰی ؑ کے زمانہ سے ترقی کر کے آگے نکل چکاتھا اس کے لئے ایک نئی تعلیم کی ضرورت تھی ایک نئے اصولِ اخلاق کی ضرورت تھی۔ایک نئے تمدن کی ضرورت تھی اور ایک نئی تہذیب کی ضرورت تھی لیکن جہاں موسوی علماء نے انسان کی گردن میں رسّہ لپیٹ کر اُس کو درخت کے ساتھ باندھ دیا تھا وہاں عیسوی تعلیم نے انسان کو تمام اخلاقی اور مذہبی قیود اور پابندیوں سے آزاد کر کے حیوان بنا دیا۔موسوی قانون نے یہودی دماغ کو اپنے زمانہ سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔سوائے اس کے