دیباچہ تفسیر القرآن — Page 27
ایک لچکدار تعلیم کی ضرورت زندگی کی ہزاروں ضرورتوں کے متعلق قانونِ اخلاق کا وہ لچکدار فلسفہ جو ہر موقع اور ضرورت پر کام آسکے اِن مذاہب میں مفقود ہے۔ایک ٹھوس غیر لچکدار تعلیم نا مکمل صورت میں تمدن کے متعلق پائی جاتی ہے لیکن وسیع انسانی دنیا کی غیر لچکدار تعلیم رہنمائی نہیں کر سکتی۔انسان کو دوسرے حیوانات سے یہی تو امتیاز حاصل ہے کہ سب کے سب انسان بظاہر ایک بھی ہیں اور سب کے سب ایک دوسرے سے جدا بھی ہیں۔دنیا کی تمام بھینسیں اور تمام شیر اور تمام چیتے اور تمام باز اور تمام مچھلیاں غرض نباتات خواہ از قسم حیوانات ہوں یا جمادات، خواہ حیواناتِ سمندری ہوں یا ہوائی ہوں یا خشکی کے ہوں اُ ن کی شکلیں بھی ایک ہیں اوراُن کے دماغ بھی ایک ہیں۔اُن کی شکلیں بھی ایک قسم کا قانون چاہتی ہیں اوراُن کے دماغ بھی ایک قسم کا قانون چاہتے ہیں لیکن انسان اس بات میں منفرد ہے۔تمام انسان ایک قسم کی شکل اور ایک قسم کے اعضاء لے کر پیدا ہوتے ہیں لیکن اُن کے دماغی افکار ایک دوسرے سے اتنے جدا ہوتے ہیں کہ بسا اوقات بیوی مشرق میں ہوتی ہے تو خاوند مغرب میں یا باپ مغرب میںہوتا ہے تو بیٹا مشرق میں۔ایسی ہستیوں کو جمع کرنے کے لئے یقینا ایک لچکدار تعلیم کی ضرورت ہے جو اپنی لچک کے ساتھ اپنے قانون کی شدت کا ازالہ کر دے اور ہر نوعیت کے خیالات کوا یک رسّی میں باندھ دے۔یہودی اور عیسائی کلچروں کے بعد ایک نئے کلچر کی ضرورت دنیا میں جوں جوں ترقی ہوتی چلی گئی ہے ہمیں معلوم ہے کہ دنیا اس طرف آنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔موسٰی ؑنے بنی اسرائیل کو ایک مذہب بھی دیا اور ایک تمدن بھی دیا مگر غیر لچکدار تمدن انسانی فطرت کو تسلی نہ دے سکا۔جونہی بنی اسرائیل کے دماغوں میں نئے افکار اور نئے خیالات اور نئی اُمنگیں پیدا ہوئیں اور انہوں نے ایک نئے آسمان میں اُڑنا شروع کر دیا، موسٰی ؑ کا تمدن ان سے بہت پیچھے رہ گیا۔اس تمدن نے نئے زمانہ کے اسرائیلیوں کو اچھا شہری نہیں بنایا بلکہ یا تو باغی بنا دیا یا منافق شہری بنا دیا۔مسیحؑ نے اس حالت کو دیکھا تو پکار اُٹھا کہ شریعت لعنت ہے کیونکہ اُس نے دیکھ لیا کہ موسوی شریعت نے غیرلچکدار ہونے کی وجہ سے انسانوں کو یا تو باغی بنا دیا یا منافق بنا دیا۔مگر یہ اُس وقت نہیں ہوا جب