دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 357

بتاتا ہے کہ اُس کی امانت اور اُس کا صدق دونوں اتنے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ ان کی مثال عربوں کے علم میں کسی اور شخص میں نہیں پائی جاتی تھی۔عرب اپنی باریک بینی کی وجہ سے دنیا میں ممتاز تھے پس جس چیز کو وہ نادر قرار دیں وہ یقینا دنیا میں نادر ہی سمجھے جانے کے قابل تھی۔پھر ایک اجماعی شہادت آپ کے اخلاق پر حضرت خدیجہؓ نے آپ کی بعثت کے وقت دی جس کا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح میں ذکر کر چکا ہوں۔ا ب میں چند مثالیں آپ کے اخلاق کی تشریح کے لئے اِس جگہ بیان کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے اخلاق کے مخفی گوشوں پر بھی اس کتاب کے قارئین کی نظر پڑ سکے۔آنحضرت ﷺکی ظاہری و باطنی صفائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ نہ آپ کبھی بدکلامی کرتے تھے اور نہ فضول قسمیں کھایا کرتے تھے۔۳۹۴؎ عرب میں رہتے ہوئے اس قسم کے اخلاق ایک غیر معمولی چیز تھے۔یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ عرب لوگ عادتاً فحش کلامی کرتے تھے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب لوگ عادتاً قسمیں کھایا کرتے تھے اور آج تک بھی عرب میں قسم کا رواج کثرت سے پایا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا اتنا ادب کرتے تھے کہ اس کابے موقع نام لینا کبھی پسند نہ کرتے تھے۔صفائی کا آپ کو خاص طور پر خیال رہتا تھا آپ ہمیشہ مسواک کرتے تھے اور اس بارہ میں اتنا زور دیتے تھے کہ بعض دفعہ فرماتے اگر میں اس بات سے نہ ڈروں کہ مسلمان تکلیف میں پڑ جائیں گے تو میں ہر نماز پڑھنے سے پہلے مسواک کرنے کا حکم دے دوں۔۳۹۵؎ کھانا کھانے سے پہلے بھی آپ ہاتھ دھوتے تھے اور کھاناکھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوتے اور کُلیکرتے تھے بلکہ ہر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کُلیکرتے اور آپ پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد بغیر کُلی کئے نماز پڑھنے کو ناپسند فرماتے تھے۔۳۹۶؎ مساجد جومسلمانوں کے جمع ہونے کی واحد جگہ ہیں ان کی صفائی کا آپ خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور مسلمانوں کو اس بات کی تحریک کرتے رہتے تھے کہ خاص اجتماع کے دنوں میںمسجدوں کی صفائی کا خیال رکھا کریں اور ان میں خوشبو جلایاکریں تاکہ ہوا صاف ہو جائے۔۳۹۷؎