دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 358

اسی طرح آپ ہمیشہ صحابہ کو نصیحت کرتے رہتے تھے کہ اجتماع کے موقع پر بد بو دار چیزیں کھا کر مسجد میں نہ آیا کریں۔۳۹۸؎ سڑکوں کی صفائی کا آپ خاص طو رپر وعظ فرماتے تھے۔اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر یا اور کوئی گندی چیز پڑی ہوتی تو آپ خود اُس کو اُٹھا کر سڑک سے ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جو شخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے، خدا اُس پر خوش ہوتا ہے اور اسے ثواب عطا فرماتا ہے۔۳۹۹؎ اسی طرح آپ فرماتے تھے رستہ کوروکنا نہیں چاہئے۔رستوں پر بیٹھنا یا ان میں کوئی ایسی چیز ڈال دینا جس سے مسافروں کو تکلیف ہو یا رستہ میں قضائے حاجت وغیرہ کرنا یہ خدا تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔۴۰۰؎ پانی کی صفائی کا بھی آپ کو خاص خیال تھا آپ ہمیشہ اپنے صحابہ کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ کھڑے پانی میں کسی قسم کا گند نہیں ڈالنا چاہئے۔اسی طرح کھڑے پانی میں بول وبراز کرنے سے بھی آپ سختی سے روکتے تھے۔۴۰۱؎ کھانے پینے میںسادگی اور تقویٰ کھانے پینے میں آپ سادگی کوہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔کھانے میں کبھی نمک زیادہ ہو جائے یا نمک نہ ہو یاکھانا خراب پکاہو، تو آپ کبھی اظہارِ ناراضگی نہیں فرماتے تھے۔جہاں تک ممکن ہو سکتا تھا آپ ایسا کھانا کھا کر پکانے والے کو دلشکنی سے بچانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اگر بالکل ہی ناقابل برداشت ہوتا تو آپ صرف ہاتھ کھینچ لیتے تھے اور یہ ظاہر نہیں کرتے تھے کہ مجھے اِس کھانے سے تکلیف پہنچتی ہے۔۴۰۲؎ جب آپ کھاناکھانے لگتے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھتے اور فرماتے مجھے یہ تکبرانہ رویہ پسند نہیں کہ بعض لوگ ٹیک لگا کر کھانا کھاتے ہیں گویا وہ کھانے سے مستغنی ہیں۔۴۰۳؎ جب آپ کے پاس کوئی چیز آتی توا پنے صحابہؓ میں بانٹ کر کھاتے۔چنانچہ آپ کے پاس ایک دفعہ کچھ کھجوریں آئیں آپ نے صحابہ کااندازہ لگایا تو سات سات کھجوریں فی کس آتی تھیں۔اس پر آپ نے سات سات کھجوریں صحابہ میں بانٹ دیں۔۴۰۴؎ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کی روٹی بھی پیٹ بھر