دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 351

ایک نئی قوم اور ایک نئے آسمان اور ایک نئی زمین کی بنیاد ڈال دی گئی۔بونے والے نے زمین میں ہل چلایا، پانی دیا اور بیج بو دیا اور فصل تیار کی۔اب فصل کے کانٹے کا کام اس کے ذمہ نہ تھا۔وہ ایک مزدور کی حیثیت سے آیا اور ایک مزدور ہی کی حیثیت سے اسے اس دنیا سے جانا تھا کیونکہ اُس کا انعام اِس دنیا کی چیزیں نہیں تھیں بلکہ اُس کا انعام اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے بھیجنے والے کی رضا تھی۔جب فصل کٹنے پر آئی تو اُس نے اپنے ربّ سے یہی خواہش کی کہ وہ اب اُسے دنیا سے اُٹھا لے اور یہ فصل بعد میں دوسرے لوگ کاٹیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمارہوئے کچھ دن تو تکلیف اُٹھا کر بھی مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے آتے رہے۔آخر یہ طاقت بھی نہ رہی کہ آپ مسجد میں آسکتے۔صحابہؓ کبھی خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپ فوت ہو جائیں گے۔مگر آپ بار بار انہیں اپنی وفات کے قرب کی خبردیتے۔ایک دن صحابہ کی مجلس لگی ہوئی تھی کہ آپ نے فرمایا اگر کسی شخص سے غلطی ہو جائے تو بہتر یہی ہوتاہے کہ اِس دنیا میں اس کاازالہ کر دے تاکہ خدا کے سامنے شرمندہ نہ ہو۔اگر میرے ہاتھ سے نادانستہ طور پر کسی کا حق مارا گیا ہو تو وہ مجھ سے اپنا حق مانگ لے۔اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج وہ مجھ سے بدلہ لے لے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ خد ا تعالیٰ کے سامنے شرمند ہ ہوں۔دوسرے صحابہ پر تو یہ بات سن کر رقت طاری ہو گئی اورا ن کے دل میں یہی خیال گزرنے لگے کہ کس طرح تکلیف اُٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے آرام کی صورت پیدا کرتے رہے ہیں۔کس طرح آپ بھوکا رہ کر ان کو کھلاتے رہے ہیں۔اپنے کپڑوں کو پیوند لگا کر اُن کو کپڑے پہناتے رہے ہیں پھر بھی دوسروں کے حقوق کا آپ کو اتنا خیال ہے کہ آپ اُن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بے جانے بوجھے مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو آج مجھ سے بدلہ لے لے۔مگر ایک صحابی آگے بڑھے اور اُنہوں نے کہا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! مجھے آپ سے ایک دفعہ تکلیف پہنچی تھی۔جنگ کی صفیں تیار ہورہی تھیں کہ آپ صف میں سے ہو کر آگے بڑھے اُس وقت آپ کی کہنی میرے جسم کو لگ گئی تھی۔چونکہ آپ نے فرمایا کہ بے جانے بوجھے بھی اگر کسی کو نقصان پہنچا ہو تو مجھ سے بدلہ لے لے تو میں چاہتا ہوں کہ اِس وقت آپ سے اُس تکلیف کا بدلہ لے لوں۔وہ صحابہؓ جو غم کے سمندر میں ڈوب رہے تھے یکدم اُن کی حالت میں تغیر پیدا ہوا۔ا ُن کی آنکھوں