دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 22

کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔چنانچہ چند رسولوں کے متعلق لکھا ہے:۔’’ وے جو اس جو روجفا سے جو کہ استیفن کے سبب برپا ہوئی تتر بتر ہو گئے تھے۔پھرتے پھرتے فینیکے وکپرس اور انطاکیہ میں پہنچے مگر یہودیوں کے سوا کسی کو کلام نہ سناتے تھے‘‘۔۴۵؎ اسی طرح جب حواریوں نے سنا کہ پطرس نے ایک جگہ غیر قوموں میں انجیل کی منادی کی ہے تو وہ سخت ناراض ہوئے اور جب پطرس یروشلم میں آیا تو مختون اُس سے یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ تو نا مختونوں کے پاس گیا اور اُن کے ساتھ کھایا۔۴۶؎ پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص بھی نہیں تھا جس نے ساری دنیا کو خطاب کیا ہو اور قرآن سے پہلے کوئی کتاب نہ تھی جس نے ساری دنیا کو مخاطب کرنے کا دعویٰ کیا ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے ساری دنیا کو مخاطب کر کے کہا کہ۴۷؎ یعنی اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس قرآن کریم کا آنا ان اختلافات کے مٹانے کے لئے جو وقتی اور قومی تعلیموں کی وجہ سے پید ا ہوگئے تھے ضروری تھا۔اگر قرآن نہ آتا تو دنیا پر یہ بھی ثابت نہ ہوتا کہ دنیا کا پیدا کرنے والاایک خداہے اور نہ یہ ثابت ہوتا کہ دنیا ایک خاص مقصود کو مدنظر رکھ کر پیدا کی گئی ہے۔پس گزشتہ مذاہب کا اختلاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ دنیا کو متحد کرنے والی آخری تعلیم کے رستہ میں روک نہیں بلکہ ان کا وجود ہی ایک ایسی تعلیم کا متقاضی ہے۔دوسرا سوال اور اُس کا جواب دوسرا سوال یہ ہے کہ انسانی دماغ اسی طرح ارتقاء کی منزلوں کوطے کرتے ہوئے نہیں جا رہا تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میںا رتقاء کی منزلیں طے کی تھیں؟ پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کیلئے بھی یہ ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلوں کو طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچتے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی؟