دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 23

تمدن وتہذیب اور کلچر سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مختلف ممالک کی تہذیب اور تمدن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا پر تہذیب اور تمدن کے کئی دَور آئے ہیں اور بعض اُن میں سے اتنے شاندارگزرے ہیں کہ بادی النظر میں وہ دَور ہمارے موجودہ دَور کے بالکل مشابہہ معلوم ہوتے ہیں۔اگر مکینیکل ترقی کو الگ کر دیا جائے تو پُرانا دَورِ تمدن موجودہ دَورِ تمدن کے بالکل مشابہہ معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح پرانا دَورِ تہذیب بھی موجودہ زمانہ کے دَورِ تہذیب کے بہت حد تک مشابہہ نظر آتا ہے۔مگر زیادہ غور سے دیکھا جائے تو دو فرق ہمیں نمایاں نظر آتے ہیں لیکن پیشتر اِس کے کہ میں ان ا متیازوں کا ذکر کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ تمدن یعنی سویلیزیشن اور تہذیب یعنی کلچر سے میری کیا مراد ہے۔میرے نزدیک تمدن ایک خالص مادی نقطۂ نگاہ ہے۔مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی اعمال میں جو یکسانیت اور سہولت پیدا ہو جاتی ہے وہ میرے نزدیک تمدن کہلاتی ہے۔انسانی اعمال کے نتیجہ میںجس قسم کی اور جس قدر پیداوار دنیا میںہو اُس کو ایک دوسری جگہ پہنچانے کے لئے نقل و حرکت کے جتنے ذرائع موجود ہوں، مال کو سہولت کے ساتھ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف منتقل کرنے کے لئے جتنی تدبیریں کی گئی ہوں، تعلیم جتنی رائج ہو، صنعت وحرفت جتنی منظم کرلی گئی ہو، سائنس کی طرف قوم میں جتنا میلان پایا جاتا ہو اور مُلک میں امن کے قیام کے لئے جس حد تک فوجی تنظیم کی گئی ہو، یہ چیزیں لازمی طور پر انسان کے اعمال پر اثر ڈالتی ہیں اور ان میں جو ملک ترقی یافتہ ہو اُس کے افراد کی زندگی دوسری اقوام کے افراد کی زندگی سے نمایاں طور پر الگ نظر آتی ہے اور میرے نزدیک اِسی کو تمدن یا سویلیزیشن کہتے ہیں۔ایک زراعتی طور پر غیرتعلیم یافتہ ملک کے لوگوں کی غذا یقینا زراعتی طور پر زیادہ ترقی یافتہ ملک کی نسبت مختلف ہوگی۔زراعتی طور پر ترقی یافتہ ملک طبی طور پر تجویز کردہ اور زبان کے ذائقہ کے مطابق خوراک استعمال کرے گا اور اس کی خوراک میں بہتات ہو گی۔مگر زراعت میں غیر ترقی یافتہ ملک کے لوگوں کی خوراک میں نہ طبی اصول مدنظر رکھے جا سکیں گے نہ ذائقہ کا سوال مدنظر ہوگا۔قدرت نے جو غذا ان کے ملک میں پیدا کردی ہے وہ اسی کے کھانے پر مجبور ہوں گے اور اس سے آگے ان کی نگاہ جا ہی نہیں