دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 269

اصرار کیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کو نہیں مانیں گے بلکہ فلاں دوسرے شخص کے فیصلہ کو مانیں گے اور اُس شخص نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اقرار لے لیا کہ جو میں فیصلہ کروں گا اُسے آپ مانیں گے۔اس کے بعد اُس نے فیصلہ کیا بلکہ اُس نے فیصلہ نہیں کیا اُس نے موسٰی ؑکا فیصلہ دُہرا دیا جس کی اُمت میں سے ہونے کے یہود مدعی تھے۔پس اگر کسی نے ظلم کیا تو یہود نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ا گر کسی نے ظلم کیا تو موسٰی ؑنے ظلم کیا جنہوں نے محصور دشمن کے متعلق تورات میں خدا سے حکم پا کر یہی تعلیم دی تھی۔اگر یہ ظلم تھا تو اِن عیسائی مصنفوں کو چاہئے کہ موسٰی ؑکو ظالم قرار دیں بلکہ موسٰی ؑکے خدا کو ظالم قرار دیں جس نے یہ تعلیم تورات میں دی ہے۔احزاب کی جنگ کے خاتمہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آج سے مشرک ہم پر حملہ نہیں کریں گے اب اسلام خود جواب دے گا اور ان اقوام پر جنہوں نے ہم پر حملے کئے تھے اب ہم چڑھائی کریں گے۔۲۹۷؎ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔احزاب کی جنگ میں بھلا کفّار کا نقصان ہی کیا ہوا تھا چند آدمی مارے گئے تھے وہ دوسرے سال پھر دوبارہ تیاری کر کے آسکتے تھے۔بیس ہزار کی جگہ وہ چالیس یا پچاس ہزار کا لشکر بھی لا سکتے تھے۔بلکہ اگر وہ اور زیادہ انتظام کرتے تو لاکھ ڈیڑھ کا لشکر لانا بھی اُن کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا۔مگر اکیس سال کی متواتر کوشش کے بعد کفّار کے دلوں کو محسوس ہو گیا تھاکہ خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔اُن کے بت جھوٹے ہیں اور دنیا کا پیدا کرنے والا ایک ہی خد ا ہے۔اُن کے جسم صحیح سلامت تھے مگر اُن کے دل ٹوٹ چکے تھے۔بظاہر وہ اپنے بتوں کے آگے سجدہ کرتے ہوئے نظر آتے تھے مگر اُن کے دلوں میں سے لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کی آوازیں اُٹھ رہی تھیں۔